ریاض میں رہائشی اور تجارتی کرایوں کے حوالے سے سعودی عرب نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جسے ماہرین "انقلاب” سے کم نہیں سمجھ رہے۔ اس فیصلے کے مطابق اب آئندہ پانچ برسوں تک دارالحکومت میں کرایے بڑھانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاض میں رہائش اور کاروبار کرنے والوں کو تیزی سے بڑھتے ہوئے کرایوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔
یہ تاریخی اقدام سعودی کابینہ کی منظوری اور شاہی فرمان کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے، اور یہ براہِ راست ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر کیا گیا، جنہوں نے حالیہ مہینوں میں خاص طور پر زور دیا تھا کہ عوام کو کرایوں کے بوجھ سے بچانے اور مالک و کرایہ دار کے درمیان منصفانہ توازن قائم کرنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
نئے ضوابط کے تحت اب ریاض کے شہری حدود میں موجود تمام رہائشی یا تجارتی عمارتوں کے کرایے—چاہے وہ پہلے سے جاری معاہدے ہوں یا نئے طے پانے والے—آنے والے پانچ برسوں تک نہیں بڑھ سکیں گے۔
اگرچہ یہ فیصلہ فی الحال صرف ریاض تک محدود ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر یہ دائرہ دوسرے بڑے شہروں اور گورنریٹس تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سلسلے میں فیصلہ ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی اور اقتصادی و ترقیاتی کونسل کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
خالی پڑی عمارتوں کے حوالے سے بھی ایک واضح اصول طے کیا گیا ہے۔ اگر کوئی مکان یا دکان پہلے کرایہ پر دی گئی تھی تو اب اس کا کرایہ اس آخری رجسٹرڈ معاہدے کے مطابق ہی طے ہوگا۔ لیکن اگر کوئی یونٹ کبھی کرایے پر نہیں دیا گیا تو مالک مکان اور کرایہ دار باہمی رضامندی سے پہلا کرایہ طے کر سکیں گے۔
تمام معاہدوں کو اب لازمی طور پر "ایجار” پلیٹ فارم پر رجسٹر کرنا ہوگا۔ مالک مکان یا کرایہ دار میں سے کوئی بھی یہ اندراج کر سکتا ہے، اور اگر کسی کو اعتراض ہو تو ساٹھ دن کے اندر اندر وہ اعتراض درج کروا سکے گا۔ بصورت دیگر وہ معاہدہ حتمی طور پر درست مانا جائے گا۔
خودکار تجدید کے اصول بھی بدل دیے گئے ہیں۔ اب پورے ملک میں یہ اصول ہوگا کہ کرایہ داری کے معاہدے خودکار طریقے سے آگے بڑھ جائیں گے جب تک کہ دونوں میں سے کوئی ایک فریق ساٹھ دن پہلے دوسری پارٹی کو تحریری اطلاع نہ دے۔ لیکن خاص طور پر ریاض میں مالک مکان کرایہ دار کو زبردستی نکال نہیں سکے گا اگر وہ کرایہ داری بڑھانا چاہے، سوائے تین مخصوص وجوہات کے:
اگر کرایہ دار مسلسل کرایہ ادا نہ کرے۔اگر عمارت میں ایسے نقص پیدا ہو جائیں جو رہائش یا کاروبار کے لیے خطرناک ہوں۔
اگر مالک مکان خود یا اس کا قریبی رشتہ دار اس جگہ میں رہائش یا کاروبار کرنا چاہے۔
اگر کوئی مالک مکان بڑے پیمانے پر مرمت یا تزئین و آرائش کرے یا پچھلا کرایہ داری معاہدہ 2024 سے پہلے کا ہو تو ایسے حالات میں کرایہ بڑھانے کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے بھی باضابطہ اپیل اور جائزہ لازمی ہوگا۔
قوانین کی خلاف ورزی پر سخت جرمانے عائد ہوں گے۔ اگر کوئی مالک مکان کرایہ بڑھانے کی کوشش کرے تو اس پر زیادہ سے زیادہ بارہ ماہ کے کرایے کے برابر جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ کرایہ دار کو ہرجانہ بھی دیا جائے گا۔ مزید یہ کہ جو شخص کسی خلاف ورزی کی اطلاع دے گا، اسے جرمانے کی رقم کا بیس فیصد انعام کے طور پر دیا جائے گا تاکہ عوام کو نگرانی کے عمل میں شامل کیا جا سکے۔
ان تمام ضوابط کی نگرانی اور عمل درآمد کا ذمہ ریئل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی کو دیا گیا ہے، جو دیگر اداروں کے ساتھ مل کر نہ صرف قیمتوں پر نظر رکھے گی بلکہ ولی عہد کو باقاعدگی سے رپورٹ بھی پیش کرے گی۔ اس اتھارٹی کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وقتاً فوقتاً عوام کو آگاہ کرنے کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے اور اگر حالات میں تبدیلی آئے تو فوری طور پر ضروری ترامیم تجویز کی جائیں۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ صرف کرایہ داروں کو تحفظ دینے کے لیے نہیں بلکہ ریاض کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو متوازن، شفاف اور پائیدار بنانے کے لیے بھی ہے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ شہریوں کو بھی ایک محفوظ اور منصفانہ ماحول میسر آئے گا۔ بالخصوص وہ لوگ جو محدود آمدنی رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ اقدام ریلیف کا باعث بنے گا۔
یہ اقدام سعودی وژن 2030 کے اہداف سے بھی مطابقت رکھتا ہے جس میں شہری زندگی کے معیار کو بلند کرنا، شہری منصوبہ بندی میں استحکام لانا اور رہائشی سہولتوں کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھنا شامل ہے۔
