پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج زبردست خریداری کا سلسلہ جاری رہا جس نے مارکیٹ کو ایک نئی تاریخی سطح پر پہنچا دیا۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی فضا اس وقت مزید مضبوط ہوئی جب وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔
اس ملاقات کو نہ صرف سیاسی اور سفارتی حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس کے مثبت اثرات براہِ راست کاروباری اور مالیاتی سرگرمیوں پر بھی دیکھنے میں آئے۔ کے ایس ای 100 انڈیکس کاروباری دن کے اختتام پر 162,257 پوائنٹس پر بند ہوا، جو تقریباً 2,977 پوائنٹس یا 1.87 فیصد کے بڑے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ دورانِ روز انڈیکس نے 162,422 پوائنٹس کی بلند ترین سطح بھی چھوئی جو ملکی سرمایہ کاری کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اضافہ محض سرمایہ کاروں کے جذباتی رجحان کا نتیجہ نہیں بلکہ ملکی معیشت میں بتدریج بہتری اور بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات کی جھلک بھی ہے۔ پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے سربراہِ تحقیق سمیع اللہ طارق کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی حالات اور بین الاقوامی تعلقات میں مثبت تبدیلی نے مارکیٹ کو اعتماد بخشا ہے۔
ان کے مطابق اقتصادی بحالی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت میں بہتری بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا باعث بنی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز امریکی صدر سے ملاقات کے دوران نہ صرف خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بات کی بلکہ بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اور غزہ کی جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے نیویارک میں مسلم دنیا کے قائدین کو مدعو کر کے مشاورت کا عمل شروع کرنا ایک قابلِ قدر اقدام ہے جس سے امن قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
اس موقع پر وزیراعظم نے امریکی کمپنیوں کو زراعت، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں نئی مضبوطی آئے گی جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ اس ملاقات میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔
مارکیٹ کے دوسرے تجزیہ کار، جیسے کہ جے ایس گلوبل کے ریسرچ سربراہ وقاص غنی، کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بیرونی اور مالیاتی توازن میں بہتری نے معیشت کو استحکام دیا ہے۔ ان کے مطابق کارپوریٹ سیکٹر کی آمدنی کے امکانات خاص طور پر سائیکلیکل کمپنیوں میں بہت روشن ہیں۔ ساتھ ہی مارکیٹ میں دستیاب لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاروں کے پرجوش رویے نے بھی تیزی کے اس رجحان کو بڑھا دیا ہے۔
وزیراعظم نے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی شاندار کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اللہ کے فضل اور کاروباری طبقے و حکومت کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں ہر دن مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق معیشت پہلے استحکام کی طرف بڑھی اور اب ترقی کی طرف گامزن ہے۔
جمعرات کے روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا تھا جب حکومت کی جانب سے گردشی قرضوں پر قابو پانے کے اقدامات نے سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا کیا۔ اس دن انڈیکس 159,280 پوائنٹس پر بند ہوا تھا جو ایک ہزار سے زیادہ پوائنٹس کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈیوں میں صورتحال کچھ مختلف رہی۔ ایشیائی حصص مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، خاص طور پر فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے شیئرز پر دباؤ بڑھ گیا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی تجارتی پابندیوں اور سخت ٹیرف کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ یکم اکتوبر سے درآمدی ادویات پر سو فیصد ڈیوٹی عائد کرے گا، ہیوی ڈیوٹی ٹرکوں پر پچیس فیصد، کچن کیبنٹس پر پچاس فیصد، اور باتھ روم وینٹیز پر پچاس فیصد ٹیکس لگائے گا جبکہ فرنیچر پر تیس فیصد ٹیرف بھی عائد کیا جائے گا۔
اس اعلان کے فوراً بعد ایشیائی مارکیٹوں میں فارماسیوٹیکل انڈیکس دباؤ کا شکار ہو گیا۔ جاپان کے ٹوپکس فارما انڈیکس میں ایک فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ ہانگ کانگ کی انوویٹو ڈرگ کمپنیوں کا انڈیکس تقریباً 2.8 فیصد تک گر گیا۔ اس کمی نے خطے کے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا اور عالمی سطح پر مارکیٹ کے رجحانات میں عدم توازن کا عندیہ دیا۔
پاکستانی مارکیٹ میں تیزی کا یہ سلسلہ اس وقت بھی دیکھا جا رہا ہے جب دنیا کے دیگر حصوں میں غیر یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اندرونی معاشی پالیسیوں اور سیاسی پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے رویے پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔ ایک طرف حکومت کے اقدامات معیشت کو مستحکم کر رہے ہیں تو دوسری طرف عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی حیثیت میں اضافہ بھی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملکی معیشت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں اسٹاک مارکیٹ محض کاروباری سرگرمیوں کی عکاس نہیں بلکہ سفارتی اور حکومتی پالیسیوں کا بھی مظہر ہے۔ سرمایہ کار اس وقت نہ صرف مالیاتی اشاریوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ سیاسی تعلقات اور عالمی منظرنامے کو بھی اپنے فیصلوں میں شامل کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس کی بلند ترین سطح کو صرف ایک عددی ریکارڈ کے بجائے ملکی معیشت کے روشن مستقبل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان کی مالیاتی منڈی اب خطے میں ایک نمایاں مقام حاصل کرنے کے قریب ہے اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو سرمایہ کاروں کے لیے مزید مواقع اور اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
