اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت پر گامزن ہے اور آئندہ بجٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نہیں بلکہ وزارتِ خزانہ کا نیا قائم ہونے والا ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دفتر کا مقصد سال بھر مشاورت کا تسلسل برقرار رکھنا اور پالیسی سازی کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا ہے تاکہ ادارہ صرف ریونیو کلیکشن پر توجہ دے سکے۔ اجلاس کی صدارت سلیم مانڈوی والا نے کی جبکہ اٹارنی جنرل انور منصور اعوان بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے صدارتی حکم نامے کے خلاف اپیل پر بحث ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی نے اس پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے صدر کے حکم کو چیلنج تو کیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ متاثرہ شہری کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ایف بی آر نے تین بار قانون کی خلاف ورزی کی، حالانکہ صدر اور وفاقی محتسب کے احکامات حتمی اور لازم ہیں۔
اٹارنی جنرل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاملہ گڈز کی کلاسیفکیشن کا ہو تو وفاقی ٹیکس محتسب اپیل کا حق رکھتا ہے۔ تاہم متاثرہ شہری نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کو ان احکامات کی تشریح کا اختیار نہیں۔ کمیٹی نے اٹارنی جنرل کو معاملے کے حل کے لیے باضابطہ ہدایات جاری کر دیں۔
معاشی صورتِ حال پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے یورو بانڈ کی مد میں 50 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کر دی ہے، جبکہ اپریل 2026 میں واجب الادا 1.3 ارب ڈالر کی قسط بھی بروقت ادا کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نومبر کے آخر تک 25 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز جاری کرے گی، جبکہ مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کے بانڈز لانچ کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان اقدامات سے معیشت کو عالمی سطح پر اعتماد ملے گا اور استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔
