سعودی عرب نے اپنے مجوزہ بجٹ 2026 کا ابتدائی خاکہ جاری کردیا ہے، جس میں ایسی مالیاتی تصویر پیش کی گئی ہے جو ایک طرف مملکت کی غیر معمولی ترقیاتی امنگوں کو ظاہر کرتی ہے اور دوسری جانب اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ بڑے منصوبوں کی تکمیل کے لئے اخراجات اور آمدنی کے درمیان توازن قائم رکھنا کس قدر مشکل عمل ہے۔ جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق 2026 میں سرکاری آمدنی کا تخمینہ 1.147 ٹریلین ریال یعنی تقریباً 305.9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جب کہ اخراجات کا تخمینہ 1.313 ٹریلین ریال یا تقریباً 350.1 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر بجٹ خسارہ 165 ارب ریال یعنی تقریباً 44 ارب ڈالر کے لگ بھگ سامنے آتا ہے۔
یہ خسارہ محض اعدادوشمار کی گنتی نہیں بلکہ اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت سعودی حکومت شعوری طور پر قلیل مدتی خساروں کو برداشت کرتے ہوئے طویل مدتی ترقیاتی مقاصد پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ بجٹ کو متوازن رکھنے کے بجائے مملکت نے گزشتہ برسوں کی طرح ایک مرتبہ پھر اپنے وژن 2030 کے پروگراموں، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، توانائی کے نئے ذرائع، ٹیکنالوجی اور سماجی منصوبوں پر خاطر خواہ رقوم مختص کرنے کو ترجیح دی ہے۔
گزشتہ بجٹ کی نسبت یہ خسارہ زیادہ دکھائی دیتا ہے جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ حکومت اپنے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو کم کرنے کے بجائے مزید تیز رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔ ملک کے بڑے گیگا پروجیکٹس جیسے نیوم، دی لائن اور دیگر ترقیاتی اقدامات مسلسل بھاری سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں اور یہ بجٹ ان کی تکمیل کی راہ میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔
ان مالیاتی تخمینوں کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ حکومت تیل پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ غیر تیل آمدنی کے ذرائع میں اضافہ کر رہی ہے۔ اگرچہ تیل اب بھی سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ ہے لیکن سعودی پالیسی ساز بخوبی سمجھتے ہیں کہ عالمی منڈیوں میں قیمتوں کی اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لئے متنوع ذرائع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ پچھلے چند برسوں میں غیر تیل شعبے جیسے سیاحت، ٹیکنالوجی، مالیاتی خدمات، لاجسٹکس اور تفریحی صنعتوں میں غیر معمولی نمو دیکھنے میں آئی ہے، اور یہ بجٹ انہی شعبوں کو مزید فروغ دینے پر مبنی ہے تاکہ مستقبل کے لئے مستحکم آمدنی کے راستے کھل سکیں۔
مملکت کے پاس اب بھی اتنے مالی ذخائر، خودمختار فنڈز اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی گنجائش موجود ہے کہ وہ خسارے کو باآسانی سنبھال سکے۔ حکومت اسے خطرہ سمجھنے کے بجائے ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے طور پر دیکھتی ہے، جس کے ذریعے موجودہ وسائل کو مستقبل کی خوشحالی میں ڈھالا جا سکے۔ قرضوں کا اجرا، مالی ذخائر کا انتظام اور نئی فنانسنگ کے ذرائع بجٹ کے اس خلا کو پر کرنے کے لئے بروئے کار لائے جائیں گے۔
یہ بھی اہم ہے کہ آنے والے بجٹ میں سماجی شعبوں کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے۔ تعلیم، صحت، رہائش اور عوامی سہولتوں پر بھاری سرمایہ مختص کیا گیا ہے تاکہ شہریوں اور رہائشیوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی توانائی کے متبادل ذرائع، ماحولیاتی تحفظ اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے منصوبے بھی بڑھائے جا رہے ہیں، جو مملکت کی پائیدار ترقی کے عزم کا حصہ ہیں۔
اگرچہ خسارہ ایک واضح حقیقت ہے، لیکن معیشت کی مجموعی سمت مثبت دکھائی دیتی ہے۔ غیر تیل جی ڈی پی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کاروباری ماحول میں اصلاحات کی بدولت نجی شعبے کی شمولیت بڑھی ہے، اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ قوانین کو جدید بنانے، سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور عوامی و نجی شراکت داریوں کو فروغ دینے جیسے اقدامات سے توقع ہے کہ 2026 میں بھی ترقی کا یہ سلسلہ برقرار رہے گا۔
البتہ حقیقی آزمائش یہی ہوگی کہ حکومت کس طرح سخت مالی نظم و ضبط کے ساتھ ان منصوبوں کو کامیاب بناتی ہے۔ عالمی سطح پر توانائی منڈیوں کی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی تنازعات آمدنی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر بڑے منصوبوں پر اخراجات قابو سے باہر ہو جائیں تو خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
مختصراً، 2026 کا بجٹ یہ واضح کرتا ہے کہ سعودی عرب قلیل مدتی خسارے کو قبول کرتے ہوئے طویل مدتی خوشحالی کے لئے اپنی سرمایہ کاری کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ 165 ارب ریال کا خسارہ محض کمی کا اشارہ نہیں بلکہ قیادت کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے آج کی سرمایہ کاری کو کل کی مضبوط اور متنوع معیشت میں بدلا جا سکے۔
