برسلز / ڈبلن : یورپی یونین میں اسرائیل کے ساتھ جاری تجارتی معاہدے کو معطل کرنے کی تجویز پر داخلی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ یورپی کمیشن کے نائب صدر اور تجارتی امور کے کمشنر ماروس سیفکووچ نے جمعرات کے روز آئرلینڈ کی پارلیمانی کمیٹی میں کھل کر اعتراف کیا کہ اس تجویز کو منظوری دلوانا "آسان نہیں ہو گا۔”
سیفکووچ کے مطابق، اس معاہدے کی معطلی کے لیے یورپی کونسل میں اہل اکثریت (Qualified Majority) درکار ہے، جس کا حصول موجودہ حالات میں خاصا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا،
میں یہ بات نہیں چھپاؤں گا کہ رکن ممالک سے یہ ووٹ حاصل کرنا آسان نہیں ہو گا
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی جنگ نے عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف جذبات کو ابھارا ہے اور یورپی یونین کے کئی رکن ممالک، خاص طور پر آئرلینڈ، اسپین اور بیلجیئم، اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کے حامی ہیں۔
تجارتی معاہدہ معطل ہونے کی صورت میں اسرائیلی مصنوعات کی یورپی منڈیوں تک رسائی محدود ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف برآمدات بلکہ سیاسی و سفارتی تعلقات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
آئرلینڈ جیسے ممالک کی جانب سے اسرائیلی پالیسیوں پر سخت تنقید کی جا رہی ہے، بالخصوص غزہ میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے تناظر میں۔ تاہم، یورپی یونین کے اندر ایسے ممالک بھی ہیں جو اسرائیل کے ساتھ معاشی اور اسٹریٹیجک تعلقات کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں، جس کی وجہ سے ووٹنگ کے وقت رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
سیفکووچ کے اس بیان نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ یورپی یونین داخلی سطح پر غزہ جنگ کے تناظر میں مکمل ہم آہنگی حاصل نہیں کر پائی ہے، اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر رکن ممالک کی رائے منقسم ہے
