اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی مختلف اسکیموں کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت تجارت اس حوالے سے تمام اسکیموں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور جلد ہی اس بارے میں فیصلہ متوقع ہے۔
معتبر ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ گفٹ اسکیم، پرسنل بیگج اسکیم اور ٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد میں وسیع پیمانے پر غلط استعمال ہونے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔
اس وقت ان اسکیموں کے تحت بیرون ملک 180 سے 700 دن تک مقیم پاکستانی استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کر سکتے ہیں، اور حکومت اس مدت کو بڑھا کر 850 دن کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، پرانی گاڑیوں کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد کی گئی ہے۔
وزارت صنعت و پیداوار نے رہائش کی منتقلی کی اسکیم کے علاوہ دیگر تمام اسکیموں کو بند کرنے پر بھی غور شروع کر دیا ہے، خاص طور پر ان اسکیموں کو جن میں کمرشل درآمدات پر سے پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
مقامی آٹو مینوفیکچررز بھی اس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور وہ حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کو برقرار رکھا جائے تاکہ ملکی آٹو انڈسٹری کو تحفظ دیا جا سکے۔ تاہم، وزارت خزانہ کی تجویز ہے کہ اسکیموں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی اہلیت کے معیار کو سخت کیا جائے تاکہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب وزارت تجارت سمندر پار پاکستانیوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکیموں کو مکمل ختم کرنے کی مخالفت کر رہی ہے۔
یہ مسئلہ ملکی معیشت، مقامی صنعت اور سمندر پار پاکستانیوں کے حقوق کے توازن کی حساس صورتحال کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ہر فریق اپنی بات رکھ رہا ہے اور حکومت کے لیے ایک متوازن فیصلہ کرنا چیلنج بن چکا ہے۔
