اسلام آباد: برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے امریکا کو بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں گہرے سمندر کی بندرگاہ تعمیر اور چلانے کی پیشکش کی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے معدنی وسائل تک رسائی فراہم کرنا اور ترقیاتی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، تجویز دی گئی ہے کہ امریکی سرمایہ کار پسنی میں ایک جدید ٹرمینل تعمیر اور آپریٹ کریں، جسے کسی بھی فوجی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت بندرگاہ کو ریل نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان کے مغربی معدنیاتی خطوں سے جوڑا جائے گا تاکہ تیز تر اور براہِ راست رسائی ممکن ہو سکے۔
یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے زرعی، ٹیکنالوجی، توانائی اور معدنی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی تھی۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق آرمی چیف کو صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل اس منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ یہ اقدام خالصتاً سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے ہے، نہ کہ کسی اسٹریٹجک یا فوجی مقصد کے لیے۔
بلوچستان کا ساحلی شہر پسنی، ضلع گوادر میں واقع ہے جو افغانستان اور ایران کی سرحدوں کے قریب ہے۔ اس سے قبل چین کے تعاون سے گوادر میں گہرے سمندر کی ایک بندرگاہ پہلے ہی قائم کی جاچکی ہے، تاہم پسنی منصوبہ امریکا کو براہِ راست سرمایہ کاری کے ذریعے خطے میں شمولیت کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
