کراچی میں سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو نئی جہت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی سرمایہ کار خوراک کے تحفظ، توانائی، معدنیات اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رہے ہیں۔
یہ دورہ دراصل دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف معاشی میدانوں میں عملی شراکت داری کو فروغ دینے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو حالیہ دفاعی معاہدے کے بعد نئی رفتار حاصل کر رہا ہے۔
وفد کی قیادت سعودی پاکستان مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد بن سعد آل سعود کر رہے ہیں۔ انہوں نے کراچی میں مقامی حکام اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران کہا کہ ان کا مشن سعودی قیادت کے وژن کا حصہ ہے، جس کے تحت مملکت خطے میں اقتصادی ہم آہنگی اور مشترکہ ترقی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ شہزادہ منصور نے کہا کہ سعودی قیادت نے واضح ہدایت دی ہے کہ پاکستان کی معیشت کا حصہ بننا اور یہاں کے اقتصادی مواقع میں کردار ادا کرنا مستقبل کے لیے ترجیحی ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ کئی سعودی کمپنیاں پہلے ہی پاکستان میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں، تاہم اب توجہ زمینی سطح پر عملی شراکت داری اور دوطرفہ منصوبوں کے نفاذ پر دی جا رہی ہے تاکہ دونوں ممالک کی عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے۔
انہوں نے بتایا کہ خوراک کے تحفظ کے علاوہ توانائی، گیس، کان کنی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سعودی سرمایہ کاروں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں خصوصاً بلوچستان اور کراچی کے ساحلوں میں سیاحت اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان کے پاس دنیا کے طویل ترین ساحلی سلسلوں میں سے ایک موجود ہے، اور یہاں ساحلی ترقی کے منصوبے نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں بلکہ مقامی روزگار کے مواقع بھی پیدا کریں گے۔”
وفد نے پاکستان کے نجکاری پروگراموں میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی، جن میں بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، تعلیم اور صحت کے شعبے شامل ہیں۔ مزید یہ کہ سعودی بزنس کونسل پاکستان میں ایک جدید ادارہ قائم کرنے پر غور کر رہی ہے جو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تربیت اور تحقیق کو فروغ دے گا۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ پاکستان کے توانائی اور معدنی وسائل سے مالا مال خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں زراعت، ٹیکنالوجی، ہاؤسنگ اور صنعت کے میدان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "کراچی پاکستان کا مالیاتی دارالحکومت ہے، جو قومی جی ڈی پی کا تقریباً 30 فیصد پیدا کرتا ہے۔ سندھ کے جھمپیر اور گھارو کے علاقے شمسی اور ہوائی توانائی کے بڑے مراکز بن سکتے ہیں، جن میں پچاس ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔”
انہوں نے کہا کہ تھر کا کوئلہ دنیا کے سب سے بڑے غیر استعمال شدہ لِگنائٹ ذخائر میں شامل ہے، جبکہ سندھ کا زرخیز دریائی نظام چاول، گندم، گنا اور مختلف پھلوں کی پیداوار کے لیے مثالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سعودی سرمایہ کار جدید زرعی ٹیکنالوجی، ڈیری اور گوشت کی پراسیسنگ کے شعبوں میں بھی حصہ ڈال سکتے ہیں، جبکہ حلال مصنوعات کی عالمی منڈی میں پاکستان کا کردار مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔”
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل پہلے ہی عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اس کے تحت توانائی، بنیادی ڈھانچے اور سیاحت کے شعبوں میں پانچ ارب ڈالر تک کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے مختلف ترجیحی شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دینے پر اتفاق کیا تاکہ معاہدوں پر بروقت پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر دو اہم یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے، جن میں ایک حصص فروخت سے متعلق معاہدہ "کے ای ایس پاور لمیٹڈ” میں اور دوسرا تعاون کے فریم ورک سے متعلق تھا جو "کے الیکٹرک” اور "ٹرائیڈنٹ انرجی لمیٹڈ” کے درمیان طے پایا۔ ان معاہدوں کا مقصد پاکستان کے توانائی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات کو بڑھانا اور بجلی کے نظام کو مستحکم بنانا ہے۔
صوبائی انتظامیہ کے مطابق یہ تمام اقدامات نہ صرف سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں بلکہ سندھ کے طویل المدتی ترقیاتی منصوبے کے بھی مطابق ہیں، جس کا مقصد جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
دورے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ سعودی عرب پاکستان میں زرعی برآمدات اور فوڈ پراسیسنگ کے مراکز قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ خلیجی ممالک میں خوراک کے تحفظ کی پالیسی کو عملی شکل دی جا سکے۔ اسی طرح توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ذریعے دونوں ممالک نہ صرف اپنی معیشتوں کو مستحکم بنا سکتے ہیں بلکہ خطے میں توانائی کے تبادلے اور شراکت داری کے نئے راستے بھی کھول سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ دورہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کے ایک نئے دور کی شروعات ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں نمایاں ہوں گے۔ یہ نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ ٹیکنالوجی کے تبادلے، روزگار کے مواقع اور علاقائی تعاون کے میدانوں میں بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے یہ اعلانات محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسے وژن کا حصہ ہیں جو دونوں ممالک کو ایک مشترکہ ترقیاتی راستے پر گامزن کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت میں استحکام آئے گا بلکہ سعودی وژن 2030 کے تحت خطے میں معاشی تنوع اور پائیداری کے اہداف کو بھی تقویت ملے گی۔
