پاکستان نے ایک نیا اور دیرپا قدم اٹھاتے ہوئے اپنا مالیاتی شعبہ عالمی موسمیاتی اہداف کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک اہم پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس اقدام کے تحت “پیرس الائنڈ فنانس فیلوشپ” کا آغاز اکتوبر وسط میں متوقع ہے، جس کا مقصد پاکستان کی بینکنگ اور مالیاتی اداروں کو موسمیاتی خطرات کے انتظام اور سبز سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس اسکیم کو جرمنی کی وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (BMZ) کی مالی معاونت سے عملی جامہ پہنایا جائے گا، اور اسے GIZ پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے اشتراک سے ترتیب دیا گیا ہے۔
یہ پروگرام نہ صرف ماحولیاتی تبدیلی سے منسلک چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی تیاری ہے بلکہ اس کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو عالمی تجارتی رہنما خطوط کے مطابق شکل دی جائے گی، جہاں سرمایہ کار اور تجارتی ادارے اب کم کاربن، پائیدار اور شفاف مالیاتی نظام پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ اس کی بدولت مالیاتی ادارے اپنے آپ کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ قرض دہندگان اور منصوبہ سازوں کی مدد کر سکیں تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں خطرات کا جائزہ لیں اور حکمت عملی ترتیب دیں۔
فیلوشپ کا ایک اہم پہلو “پریکٹس کمیونٹی” کا قیام ہے، جہاں بینکنگ اور مالیاتی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر علم بانٹیں گے، بہترین عملی طریقوں کو اپنائیں گے اور موسمیاتی فنانس کی ترقی کے لیے باہمی تعاون بڑھائیں گے۔ منتظمین امید کرتے ہیں کہ اس اقدام سے طویل المدت تبدیلیاں رونما ہوں گی — قرض و سرمایہ کاری کے نظام میں پائیدار رویے جڑ پکڑیں گے اور ایسے منصوبے جن میں ماحولیاتی استحکام کی اہمیت ہو، انہیں مالی سرپرستی حاصل ہو جائے گی۔
ماراج محمود، منیجنگ ڈائریکٹر بینکنگ سروسز کارپوریشن، نے کہا کہ مالیاتی شعبے کی موجودہ صلاحیت کو موسمیاتی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے قابل بنانا ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک پاکستان اس اہم اقدام کی مکمل معاونت کرنے پر خوش ہے۔
اس ضمن میں، سیشنز میں مرکزی بینک، تجارتی بینک، ترقیاتی مالیاتی ادارے اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے 50 سینئر ماہرین شرکت کریں گے، جنہیں ماحولیاتی مالیات، منتقلی مالیات، پائیداری کی رپورٹنگ اور گرین قرضوں کے شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔ یہ تربیت کراچی میں اکتوبر 13 تا 17 کو بنیاد ٹریک سے شروع ہوگی، اور اس کے بعد ماہر ٹریک جرمنی میں جاری رہے گی تاکہ شرکاء بین الاقوامی معیارات اور اوزاروں سے روشناس ہوں۔
ماہرین اور شراکت داروں کا خیال ہے کہ یہ فیلوشپ پاکستانی بینکوں کو موسمیاتی مسائل کے پیشِ نظر نئے سرمایہ کاری مواقع تلاش کرنے میں مدد دے گی، جبکہ مالیاتی خطرات کو بہتر انداز میں سنبھالنے کی استعداد بھی بڑھائے گی۔ یہ منصوبہ اس بات کا عکاس ہے کہ ملک چاہتا ہے مالیاتی شعبہ نہ صرف حال کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو جائے، بلکہ مستقبل کے عالمی بازار میں مستحکم مقام حاصل کرے۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمی پیٹرن غیر متوقع انداز اختیار کر چکے ہیں—تیز گرمی کی لہریں، غیر موسم کی بارشیں، طوفان، سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل حالیہ برسوں میں بار بار پیش آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، مون سون سیلابوں نے زخمیوں اور زمینی نقصان کے علاوہ معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ ان سب دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کو فوری موافقتی اور روک تھام کی حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہے۔
اسی دوران، عالمی فنانس اور ماحولیاتی معاونت کے شعبے بھی پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور دیگر عالمی ادارے پاکستان کی موسمیاتی مالی معاونت کے امکان پر غور کر رہے ہیں، تاکہ وہ اپنے ماحولیاتی استحکام کو بہتر بنا سکے۔ اس ماحول میں یہ فیلوشپ ایک اہم سنگِ بنیاد ثابت ہوگی، جو پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کو موسمیاتی دباؤ کے سامنے زیادہ مستحکم بنا سکتی ہے۔
اس اقدام کی کامیابی کا انحصار صرف تربیت پر نہیں بلکہ مستقل استعمال، تعامل اور نگرانی پر بھی ہوگا۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ سیکھے گئے اصولوں کو اپنی روزمرہ کارروائیوں کا حصہ بنائیں، سفارش کردہ ماحولیاتی مالی پالیسیوں کو اپنائیں، اور داخلی نگرانی کو مضبوط کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ یہ نیا فریم ورک عملی طور پر کارگر ثابت ہو۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جائے، تو پاکستان نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کے بہتر مقابلے کی راہ ہموار کرے گا بلکہ اس کا مالیاتی شعبہ ترقی کی راہوں پر مزید اعتماد کے ساتھ قدم رکھ سکے گا۔
