امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی معیشت میں ہلچل مچادی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت چین کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ چین کی جانب سے امریکی سویابین کی خریداری بند کرنا بتائی جا رہی ہے، جس سے امریکی کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل (Truth Social) پر جاری ایک بیان میں ٹرمپ نے چین پر الزام عائد کیا کہ بیجنگ نے جان بوجھ کر امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے سویابین کی درآمد روک دی ہے۔ ان کے مطابق، یہ اقدام امریکی کسانوں کے خلاف ایک اقتصادی حملہ ہے۔
ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ چین کے اس رویے سے امریکی کسانوں کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ ہماری حکومت اب چین پر انحصار ختم کرکےاپنے وسائل سےکوکنگ آئل اوردیگراشیاء تیارکرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نہ صرف کوکنگ آئل بلکہ متعدد دیگر تجارتی معاہدوں کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے، تاکہ امریکا کو معاشی خود انحصاری کی راہ پر ڈالا جا سکے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے واقعی چین کے ساتھ تجارتی رشتے توڑ دیے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق، یہ قدم خوراک، زراعت اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ چین اور امریکا دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں ہیں جن کی باہمی تجارت اربوں ڈالر پر مشتمل ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف زرعی پیداوار متاثر ہوگی بلکہ خام تیل، سویابین اور کھانے کے تیل کی قیمتوں میں بھی زبردست اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔
