پاکستان کے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے واشنگٹن میں متعدد اہم ملاقاتیں کی ہیں جن کا مقصد پاکستان کے لیے سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے نئے دروازے کھولنا ہے۔
اسلام آباد میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد عبدالله عبدالعزيز الجدعان سے واشنگٹن میں ایک اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری کے مواقع اور مستقبل کے معاشی تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وزیر خزانہ نے اپنے سعودی ہم منصب کو قومی ایئرلائن پی آئی اے اور ہوائی اڈوں کی نجکاری سے متعلق تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ پر زور دیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (MIGA) کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا تاکہ سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
محمد اورنگزیب نے اس موقع پر پاکستان کے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے سعودی عرب کی معاونت کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کےاصلاحاتی ایجنڈے پر پوری ثابت قدمی سے کاربند ہے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
واشنگٹن میں قیام کے دوران وزیر خزانہ نے امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بینجمن بلیک سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان سرمایہ کاری تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کے تیل و گیس، معدنیات، زراعت، آئی ٹی اور دواسازی کے شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر مکمل اتفاقِ رائے موجود ہے۔
محمد اورنگزیب نے امریکی ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کی جانب سے پاکستان میں نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کے رجحان کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کی معیشت عالمی شراکت داریوں کے ذریعے تیزی سے استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
