سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی عالمی امنگوں اور مستقبل کے سفری و سیاحتی نقشے کو ازسرِنو ترتیب دینے کے عزم کے تحت، کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ (KSIA)، جو پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کے تحت ایک اہم ادارہ ہے، نے ’’ٹورائز سمٹ 2025‘‘ (TOURISE 2025) کے ساتھ ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ یہ اشتراک محض ایک رسمی معاہدہ نہیں بلکہ ایک ایسی حکمتِ عملی کی علامت ہے جو مملکت کو سیاحت اور لاجسٹک خدمات کا بین الاقوامی مرکز بنانے کے وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
یہ معاہدہ ریاض کو ایک عالمی سطح کی سفری اور کاروباری منزل کے طور پر اجاگر کرنے اور پائیدار سیاحت کو فروغ دینے کے لیے KSIA کے کلیدی کردار کو نمایاں کرنے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو جدید ترین بنیادی ڈھانچے اور مسافروں کے لیے شاندار سہولیات کے ذریعے نہ صرف مملکت بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نمایاں علامت کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے، جو عالمی معیار کے سفر، جدت اور استحکام کا امتزاج پیش کرتی ہے۔
’’ٹورائز سمٹ 2025‘‘ نومبر 11 سے 13 تک ریاض کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں منعقد ہوگی، جس کا اہتمام سعودی وزارتِ سیاحت اور سعودی ٹورازم اتھارٹی مشترکہ طور پر کر رہی ہیں۔ یہ عالمی اجلاس سیاحت، ٹیکنالوجی، کنیکٹیوٹی اور سرمایہ کاری کے میدانوں سے وابستہ ممتاز رہنماؤں، ماہرین اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گا تاکہ مستقبل کی عالمی سیاحت میں جدت، ڈیجیٹل تبدیلی اور استحکام کے کردار پر جامع گفتگو کی جا سکے۔
کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قائم مقام سی ای او مارکو میجیا نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ شراکت داری KSIA کے وژن کا تسلسل ہے، جو سفری و سیاحتی شعبے کو ایک مربوط اقتصادی نظام کے حصے کے طور پر فروغ دینے پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق، عالمی سیاحت کا مستقبل اُن ممالک کے ہاتھ میں ہے جو ذہین کنیکٹیوٹی، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور پائیدار بنیادی ڈھانچے کو ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہوں۔ میجیا نے کہا کہ ’’ٹورائز 2025‘‘ کے ساتھ اشتراک ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ریاض کو دنیا کے لیے ایک مرکزی ہوائی دروازہ بنائیں، جو جدت، معیار اور ماحول دوست طریقوں پر مبنی ہو۔
یہ اشتراک سعودی عرب کی اُن وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد بین الاقوامی سطح پر اپنی موجودگی کو مستحکم کرنا اور عالمی سیاحتی منظرنامے میں ایک فعال کردار ادا کرنا ہے۔ کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نہ صرف ایک سفری مرکز کے طور پر بلکہ ایک علامتی منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مملکت کی معیشت کے تنوع، پائیداری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیتا ہے۔
یہ شراکت سعودی وژن 2030 کے بنیادی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو مملکت کو ایک جدید، بااعتماد اور متنوع معیشت کی طرف لے جانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ KSIA کا مقصد صرف ایک ایئرپورٹ بننا نہیں بلکہ ایک عالمی تجربہ پیش کرنا ہے — ایسا تجربہ جو آنے والے مسافروں کو مملکت کی مہمان نوازی، ترقی اور ثقافتی وقار کا احساس دلائے۔ یہ منصوبہ ریاض کو محض ایک گزرگاہ نہیں بلکہ ایک منزل بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جہاں تجارت، سیاحت اور اختراع ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ڈھانچہ ماحولیاتی توازن، توانائی کے مؤثر استعمال اور جدید فضائی ٹیکنالوجی کے امتزاج پر مبنی ہے، جس سے اسے دنیا کے سب سے بڑے اور ذہین ہوائی اڈوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ KSIA اپنی طرز کی ایک ایسی مثال پیش کر رہا ہے جہاں سفر، ٹیکنالوجی، ثقافت اور استحکام ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ اس کے ذریعے سعودی عرب اپنے طویل مدتی ہدف — یعنی ایک عالمی اقتصادی و سفری مرکز بننے — کے ایک اور قدم قریب پہنچ رہا ہے۔
اس معاہدے کے تحت، کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ’’ٹورائز 2025‘‘ جیسے بین الاقوامی فورمز میں اپنے منصوبوں اور وژن کو پیش کرنے کا موقع ملے گا، جس سے مملکت کی عالمی پہچان مزید مستحکم ہوگی۔ یہ اقدام عالمی سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی کے اداروں اور سیاحت کے ماہرین کو سعودی عرب میں مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دے گا، جس سے مملکت کی معیشت میں تنوع اور پائیدار ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔
یہ شراکت اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب اب عالمی سیاحت کے مستقبل میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ KSIA کے وژن کے مطابق، مستقبل کی ہوائی صنعت صرف پروازوں اور ٹرمینلز تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ایک ایسا مربوط نظام تشکیل دے گی جو سیاحتی مراکز، تجارتی سرگرمیوں اور ڈیجیٹل رابطے کے ذریعے عالمی سطح پر اثر انداز ہوگا۔
مارکو میجیا نے مزید کہا کہ ’’یہ شراکت داری ہمارے اس عزم کی عکاس ہے کہ ہم ایک ایسا نظام قائم کریں جو سفر کو محض ایک ضرورت نہیں بلکہ ایک مکمل تجربہ بنا دے۔‘‘ ان کے مطابق، ایئرپورٹ کا بنیادی مقصد نہ صرف مسافروں کو سہولت دینا ہے بلکہ انہیں ایک ایسی یادگار اور باکفایت سفری دنیا سے متعارف کرانا ہے جو سعودی عرب کے وژن، ثقافت اور ترقی کی جھلک دکھائے۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ KSIA اور ’’ٹورائز 2025‘‘ کے درمیان یہ معاہدہ سعودی عرب کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو معیشت، ماحول، اور ٹیکنالوجی کو ایک ہی سمت میں لے جا کر عالمی منظرنامے پر ایک نئی شناخت پیدا کر رہی ہے۔ ریاض اب نہ صرف ایک جدید شہر بلکہ مستقبل کے سفر، سرمایہ کاری، اور اختراع کی علامت بن چکا ہے۔
یہ شراکت ایک ایسے دور کی نمائندگی کرتی ہے جہاں سعودی عرب اپنی سرزمین کو دنیا کے لیے ایک کھلے دروازے میں تبدیل کر رہا ہے — ایک ایسا دروازہ جو ترقی، شفافیت، اور پائیداری کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی شمولیت اور ’’ٹورائز 2025‘‘ کے ساتھ اس کا اشتراک یقیناً عالمی سیاحت کے نقشے پر ایک نیا باب رقم کرے گا، اور دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ مستقبل کا سفر ریاض سے شروع ہوتا ہے۔
