اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے 27 اکتوبر 2025 کو اپنی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ مسلسل چوتھی بار کیا گیا ہے، جو مرکزی بینک کی محتاط مالیاتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ حالیہ سیلابوں کے باوجود زرعی پیداوار توقع سے بہتر رہی، صنعتی سرگرمیاں مستحکم ہوئیں اور اقتصادی اشاریے بحال ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، موجودہ کھاتوں کا خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، اور زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر 2025 تک 15.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اگرچہ ستمبر میں افراطِ زر 5.6 فیصد تک پہنچا ہے، تاہم اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ عارضی ہے اور آئندہ مالی سال میں افراطِ زر اپنے 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر آ جائے گا۔ مرکزی بینک نے اس بات پر زور دیا کہ سیلاب سے بحالی کے اخراجات بجٹ میں موجود وسائل سے پورے کیے جائیں گے اور مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جائے گا۔
کاروباری طبقے کا مطالبہ تھا کہ شرح سود کو دو فیصد کم کر کے 11 فیصد سے 9 فیصد پر لایا جائے۔ تاہم، اسٹیٹ بینک نے موجودہ اقتصادی حالات اور افراطِ زر کے دباؤ کے پیش نظر شرح سود میں کمی سے گریز کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ وہ اقتصادی اشاریوں کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گا اور ضرورت پڑنے پر مالیاتی پالیسی میں تبدیلیاں کرے گا تاکہ معیشت کو مستحکم اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
