اسلام آباد:وزارتِ خزانہ نے اپنی ماہانہ رپورٹ ماہانہ اقتصادی جائزہ و تجزیہ اکتوبر 2025 میں کہا ہے کہ پاکستانی معیشت بتدریج بحالی کے راستے پر گامزن ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات میں بہتری اور ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافے کے باعث حکومت نے مجموعی معاشی استحکام پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ سیلاب اور پاک-افغان سرحد کی عارضی بندش نے اشیائے ضروریہ کی فراہمی متاثر کی، جس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، تاہم عمومی طور پر معیشت میں بہتری کے آثار واضح ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2025) میں عمومی خسارے کے برعکس حکومت نے 15 کھرب روپے کا مالی اضافہ ریکارڈ کیا۔ وفاقی آمدن میں 231.4 فیصد اضافہ ہوا جو بڑھ کر 3 کھرب 27 ارب روپے تک پہنچ گئی، جب کہ گزشتہ سال یہی رقم 986 ارب 70 کروڑ روپے تھی۔ اس شاندار کارکردگی کا زیادہ تر کریڈٹ غیر ٹیکس آمدن میں 721 فیصد اضافے اور ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 14 فیصد اضافہ کو دیا گیا۔
غیر ٹیکس آمدن میں اضافہ بنیادی طور پر اسٹیٹ بینک کے منافع، ڈیویڈنڈز، دفاعی وصولیوں، خام تیل پر ونڈ فال لیوی، گیس انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس اور پیٹرولیم لیوی کے باعث ممکن ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اخراجات میں صرف 7.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد کل اخراجات ایک کھرب 76 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ اس کے نتیجے میں وفاقی مالی توازن ایک کھرب 50 ارب 90 کروڑ روپے کے سرپلس میں رہا، جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 648 ارب 80 کروڑ روپے کا خسارہ تھا۔ اسی طرح بنیادی توازن میں بھی نمایاں بہتری آئی، جو 49 ارب روپے سے بڑھ کر 2 کھرب 93 ارب روپے سرپلس تک جا پہنچا۔
وزارتِ خزانہ نے تسلیم کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور سیلاب نے زرعی پیداوار کو شدید متاثر کیا، جس سے 430 ارب روپے تک کے نقصانات ہوئے۔ اس کے نتیجے میں چاول، کپاس، گنا، مکئی، چارہ اور سبزیوں کی فصلیں متاثر ہوئیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق بحالی کے آثار نمایاں ہیں، جنہیں زرعی قرضوں میں اضافے، زرعی مشینری کی درآمدات اور کھاد کی بہتر فراہمی سے تقویت مل رہی ہے۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی برآمدی منڈیوں خصوصاً امریکا، برطانیہ، چین اور یورو زون میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے، جس سے برآمدات کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ بڑی صنعتوں (LSM) میں بہتری دیکھی گئی ہے، جن میں سیمنٹ، آٹوموبائل اورمتعلقہ سیکٹرز نمایاں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بیرونی مالی صورتحال بھی اطمینان بخش ہے اور ستمبر 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جو ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافے کا نتیجہ ہے۔
وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) کے کامیاب جائزے کو پاکستان کی معاشی نظم و ضبط اور اصلاحاتی پالیسیوں پر اعتماد کا ثبوت قرار دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجکاری، ڈیجیٹل گورننس اور سی پیک فیز 2.0 کے منصوبے حکومت کی پائیدار اور جامع ترقی کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔
وزارتِ خزانہ نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، سماجی تحفظ کے ہدفی اقدامات جاری رکھنے اور مستقبل بین معاشی پالیسی فریم ورک کے تحت ترقی کا سلسلہ برقرار رکھے گی۔
