چین کے صنعتی و تجارتی مرکز گوانگژو میں سعودی عرب کے صوبہ جازان سے تعلق رکھنے والے کاروباری رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور حکومتی نمائندوں نے ایک نہایت اہم بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کی، جسے جازان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے منظم کیا۔ یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان معاشی و صنعتی تعلقات کو نئی جہت دینے اور مشترکہ ترقی کے امکانات کو وسعت دینے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ اس موقع پر سعودی اور چینی کمپنیوں کے درمیان مجموعی طور پر 44 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے — جن میں 14 سعودی کمپنیوں اور 30 چینی کمپنیوں کے معاہدے شامل تھے — جبکہ تین بڑے صنعتی معاہدے بھی طے پائے، جنہیں مستقبل کے طویل المدتی تعاون کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
جازان چیمبر کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ماجد الجوہری نے کہا کہ یہ کانفرنس سعودی عرب اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی ایک زندہ مثال ہے۔ ان کے مطابق، جازان چیمبر کی کوشش ہے کہ وہ اس خطے کو نہ صرف خلیجی بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے نقشے پر ایک مضبوط اور پائیدار حیثیت دلائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدے محض تجارتی سمجھوتے نہیں بلکہ ایک جامع وژن کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کے تحت ٹیکنالوجی کا تبادلہ، صنعتوں کی مقامی کاری، انسانی وسائل کی تربیت، اور پائیدار اقتصادی ترقی جیسے اہداف حاصل کیے جائیں گے۔
کانفرنس میں متعدد اقتصادی شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، جن میں توانائی، قابلِ تجدید ذرائع، انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، مصنوعی ذہانت، زراعت، پانی کی نمک کشائی، معلوماتی ٹیکنالوجی، صحت، اور خودکار گاڑیوں کی تیاری جیسے شعبے نمایاں تھے۔ چینی وفود نے جازان کے خصوصی اقتصادی زونز (Special Economic Zones) میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی، خصوصاً ان منصوبوں میں جو سعودی عرب کے وژن 2030 کے اہداف سے مطابقت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر الجوہری نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جازان کی جغرافیائی حیثیت اسے تجارتی اور صنعتی مرکز کے طور پر ممتاز بناتی ہے۔ بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع یہ خطہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے درمیان تجارتی راستوں کے سنگم پر ہے بلکہ یمن اور دیگر افریقی منڈیوں کے قریب ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک قدرتی گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، اس کانفرنس کے ذریعے جازان چیمبر نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اس خطے کے اندر پائیدار، منافع بخش اور تکنیکی لحاظ سے جدید مواقع کو اجاگر کیا۔
مزید برآں، اس تقریب میں ہونے والے تین بڑے معاہدوں کو سعودی-چینی صنعتی تعلقات میں ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدے صنعتی شراکت داری، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور مشترکہ پیداواری یونٹس کے قیام پر مرکوز ہیں، جو سعودی عرب کے اندر نئی صنعتی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ان منصوبوں سے نہ صرف مقامی افرادی قوت کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے بلکہ سعودی معیشت کے مختلف شعبے — خاص طور پر توانائی، مینوفیکچرنگ، اور ڈیجیٹل انڈسٹریز — مزید مضبوط ہوں گے۔
چینی کمپنیوں نے اس موقع پر اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ سعودی اداروں کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری قائم کرنا چاہتی ہیں تاکہ چین کی تکنیکی برتری اور سعودی عرب کی معاشی وسعت کو یکجا کیا جا سکے۔ چین کی صنعتی پالیسی کے ماہرین نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ جازان میں ایک مشترکہ بزنس ڈیٹا سینٹر قائم کیا جائے تاکہ سرمایہ کاری کے اعدادوشمار، ترقیاتی رجحانات، اور منصوبہ جاتی امکانات پر مؤثر نگرانی کی جا سکے۔
سعودی وفد کے ارکان نے چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی بلکہ خطے میں استحکام، روزگار کے مواقع، اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے بھی ایک نیا باب کھولے گی۔ ان کے مطابق، جازان چیمبر اس سلسلے میں مستقل بنیادوں پر بین الاقوامی وفود کے تبادلے، کاروباری ورکشاپس، اور سرمایہ کاری سمٹ کے انعقاد کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے مابین براہ راست رابطہ مضبوط ہو۔
یہ بھی بتایا گیا کہ کانفرنس کے دوران ایک جامع فریم ورک تیار کیا گیا ہے جس کے تحت سعودی عرب اور چین کے درمیان مشترکہ اقتصادی کونسل کے قیام پر بات چیت جاری رہے گی۔ یہ کونسل سرمایہ کاری کے منصوبوں، صنعتی پالیسیوں، اور تجارتی سہولیات کو مربوط بنانے میں کردار ادا کرے گی۔ اس اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کی تجارتی و مالیاتی سرگرمیوں میں شفافیت بڑھے گی، اور سرمایہ کاری کے عمل میں تیزی آئے گی۔
سعودی عرب کے وژن 2030 کے تناظر میں، جازان خطے کو ایک صنعتی و اقتصادی حب کے طور پر ترقی دینے کی کوششیں تیز تر کی جا رہی ہیں۔ اس وژن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر مختلف شعبوں میں وسعت دی جائے۔ جازان چیمبر کے مطابق، چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری اس عمل کو نئی قوت بخشے گی کیونکہ چین صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی، اور سمارٹ مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں دنیا کے رہنماؤں میں شمار ہوتا ہے۔
آخر میں، ڈاکٹر الجوہری نے کہا کہ یہ معاہدے مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھیں گے، جہاں سعودی عرب اور چین نہ صرف اقتصادی شراکت دار ہوں گے بلکہ ترقی، جدت، اور پائیداری کے عالمی اہداف میں بھی مشترکہ کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ جازان خطہ آنے والے برسوں میں ایک ایسا سرمایہ کاری مرکز بن جائے گا جہاں مشرق اور مغرب دونوں کے کاروباری مفادات یکجا ہوں گے، اور یہ تعاون دونوں ممالک کی اقتصادی تاریخ میں ایک دیرپا نشان چھوڑ جائے گا۔
اگر اس پورے عمل کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کانفرنس محض ایک تجارتی تقریب نہیں بلکہ دو ابھرتی ہوئی طاقتوں کے درمیان مستقبل کے صنعتی و تکنیکی تعاون کی بنیاد ہے، جو خطے کے اقتصادی ڈھانچے میں ایک مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
