اسلام آباد:پاکستان کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو بتایا گیا ہے کہ حکومت رواں سال دسمبر 2025 تک پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) کی نجکاری مکمل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ نجکاری کمیشن کے مطابق یہ عمل حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور چار کنسورشیمز نے ایئرلائن میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان خسارے میں چلنے والی قومی ایئرلائن کے 51 سے 100 فیصد حصص فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ خسارے میں ڈوبے ہوئے سرکاری اداروں میں اصلاحات لائی جا سکیں۔ یہ اقدام 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے شدہ اصلاحاتی منصوبے کا حصہ ہے اور دو دہائیوں میں پاکستان کی پہلی بڑی نجکاری تصور کی جا رہی ہے۔
سینیٹر افنان اللہ خان کی زیرِ صدارت اجلاس میں سیکریٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ پی آئی اے کی سائٹ ڈیو ڈیلیجنس مکمل ہونے کے قریب ہے اور چار بڑے کنسورشیمز اس عمل میں حصہ لے رہے ہیں، جن میں فوجی فرٹیلائزر،عارف حبیب گروپ،ایئر بلیو، اورلکی سیمنٹ شامل ہیں۔
ان کمپنیوں کو پی آئی اے کے اکاؤنٹس، بیڑے، اور بین الاقوامی روٹس تک مکمل رسائی دے دی گئی ہے تاکہ وہ سرمایہ کاری کے حوالے سے حتمی پیشکش تیار کر سکیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش ناکام ہو گئی تھی جب واحد بولی دینے والے بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم نے محض 10 ارب روپے کی پیشکش کی، جبکہ کمیشن نے ایئرلائن کی کم از کم قیمت 85 ارب روپے مقرر کی تھی۔اس کے بعد نجکاری کمیشن نے عمل کو دوبارہ منظم کیا اور اب نئی حکمتِ عملی کے تحت دسمبر 2025 تک عمل مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
1955 میں قائم ہونے والی قومی ایئرلائن 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں جنوبی ایشیا کی بہترین اور جدید فضائی کمپنی سمجھی جاتی تھی، مگر 1990 کے بعد سے اسے مسلسل مالی خسارے اور انتظامی بحران کا سامنا ہے۔اس وقت بھی پی آئی اے کے واجبات 200 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، تاہم حکومت نے 45 ارب روپے کے ٹیکس واجبات اپنے ذمے لے کر ادارے پر دباؤ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
سیکریٹری نجکاری کمیشن کے مطابق، پی آئی اے اب بھی کئی اہم بین الاقوامی روٹس پر فعال ہے، جن میں مانچسٹر اور کینیڈا کے لیے براہِ راست پروازیں شامل ہیں۔ مانچسٹر روٹ کی پروازوں کی بکنگ آئندہ چار ماہ تک مکمل ہو چکی ہے۔اجلاس کے دوران انکشاف کیا گیا کہ نیویارک شہر میں واقع پی آئی اے کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کی موجودہ عمارت کو مسمار کر دیا جائے گا۔
یہ سو سال پرانا ہوٹل مڈ ٹاؤن مین ہیٹن میں واقع ہے اور سابق امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ کے نام پر رکھا گیا تھا،یہ ہوٹل 2020 میں بند کر دیا گیا تھا، بعدازاں کچھ عرصے کے لیے مہاجرین کی رہائش کے لیے استعمال ہوا۔سیکریٹری نجکاری نے کہا کہ خلیجی ایئر لائنز کے لیے پی آئی اے سب سے بڑا خطرہ ہے، اسی لیے وہ چاہیں گی کہ پی آئی اے کمزور رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں ایئر انڈیا کی نجکاری اس بات کی مثال ہے کہ جب قومی ایئر لائن مستحکم ہو تو خطے کی نجی ایئر لائنز کے لیے مسابقت بڑھ جاتی ہے۔سینیٹر افنان اللہ خان نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری قومی مفاد کا حساس معاملہ ہے، اسے شفاف اور بروقت مکمل کرنا ضروری ہے تاکہ ادارہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے۔
