وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نےکہاہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پاکستان کو ایکسپورٹ حب بنانے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے، جو ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ کراچی میں منعقدہ فیوچر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ نجی شعبہ معیشت میں مرکزی کردار ادا کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی کا واحد راستہ پیداواری بنیادوں پر مبنی معاشی ڈھانچے کی تشکیل ہے اور حکومت کا ہدف پاکستان کو برآمدات کا مرکز بنانا ہے، خصوصاً آئی ٹی اور میری ٹائم سیکٹرز میں۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کیا ہے، میکرو اکنامک استحکام کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے جبکہ کارپوریٹ منافع میں نو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی آمدنی میں اضافے کے لیے ٹیکس نیٹ میں توسیع کی گئی ہے اور رواں مالی سال میں نو لاکھ نئے فائلرز کا اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت آئے گی اور دیگر ممالک، خصوصاً مصر نے ایف بی آر اصلاحات کے پاکستانی ماڈل سے سیکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں اور حکومت عالمی سفارتی کامیابیوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ایک مضبوط اکو سسٹم تشکیل دے رہی ہے۔ ان کے مطابق گوگل کی دلچسپی پاکستان میں ایکسپورٹ حب بنانے سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان کی ڈیجیٹل استعداد پر اعتماد کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ترقی کے لیے اکو سسٹم کی تشکیل ضروری ہے جبکہ بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے بھی وسیع مواقع موجود ہیں۔
محمد اورنگزیب نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے، جن میں قومی ایئرلائن پی آئی اے بھی شامل ہے، جس کی نجکاری اس سال کے اختتام سے قبل مکمل کر لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کا مقصد ایک فعال، شفاف اور نجی شعبے پر مبنی معیشت کی تشکیل ہے تاکہ پاکستان عالمی سطح پر اقتصادی طور پر خودمختار ریاست کے طور پر ابھرے۔
