سعودی آرامکو نے سال 2025 کی تیسری سہ ماہی کے نتائج جاری کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اپنی مضبوط مالی اور عملی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگرچہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور توانائی کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، مگر کمپنی نے پیداوار میں اضافہ، مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کاری کی درست حکمت عملی کے ذریعے منافع میں اضافہ کیا۔ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ آرامکو عالمی توانائی منڈی میں اپنی پوزیشن کو مضبوطی سے قائم رکھے ہوئے ہے۔
کمپنی کے جاری کردہ مالیاتی بیان کے مطابق جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران سعودی آرامکو کا خالص منافع 104.9 ارب ریال (تقریباً 28 ارب ڈالر) رہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ ماہرین کی توقعات سے بہتر رہا، کیونکہ عالمی منڈی میں اس سہ ماہی کے دوران تیل کی اوسط قیمت 70 ڈالر فی بیرل رہی، جو پچھلے سال کے 79 ڈالر فی بیرل کے مقابلے میں کم تھی۔ تاہم، آرامکو نے پیداوار میں نمایاں اضافہ کر کے قیمتوں میں کمی کے اثرات کو بڑی حد تک متوازن کر لیا۔
تیسری سہ ماہی کے دوران کمپنی کی مائع ہائیڈروکاربن پیداوار میں 3.8 فیصد اضافہ ہوا، جو بڑھ کر 10.8 ملین بیرل یومیہ تک جا پہنچی، جبکہ قدرتی گیس کی پیداوار میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی طور پر کمپنی کی ہائیڈروکاربن پیداوار سال کی پہلی سہ ماہی کے آخر کے مقابلے میں تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ زیادہ رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آرامکو کے پاس پیداوار بڑھانے اور عالمی طلب میں تبدیلیوں کے مطابق فوری ردِعمل دینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
آرامکو کے چیف فنانشل آفیسر زیاد المرشد کے مطابق، "کمپنی کی تیسری سہ ماہی کی مضبوط کارکردگی اس کی تیز رفتار پیداوار بڑھانے، لاگت کے نظم و ضبط، اور مارکیٹ کی بڑھتی طلب کو بروقت پورا کرنے کی صلاحیت کا نتیجہ ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ آرامکو کا مؤثر انتظام اور بہتر سرمایہ کاری کے فیصلے اسے مشکل معاشی حالات میں بھی مستحکم رکھے ہوئے ہیں۔
کمپنی کی فری کیش فلو (یعنی سرمایہ کاری اور اخراجات کے بعد بچنے والی رقم) بڑھ کر 23.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ 21.4 ارب ڈالر کے ڈیویڈنڈ (منافع کی ادائیگی) سے زیادہ ہے۔ یہ دو سال میں پہلا موقع ہے کہ کمپنی کی فری کیش فلو اس کے منافع کی تقسیم سے زیادہ رہی، جو مالی صحت میں بہتری اور بہتر لیکویڈیٹی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسی طرح کمپنی کا گیئرنگ ریٹو (یعنی قرض اور سرمائے کا تناسب) 6.3 فیصد تک کم ہوا، جو پچھلی سہ ماہی کے 6.5 فیصد سے بہتر ہے۔
مالیاتی استحکام کے ساتھ ساتھ، آرامکو نے اپنی طویل مدتی ترقیاتی منصوبہ بندی پر بھی توجہ برقرار رکھی ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک قدرتی گیس کی پیداوار کی صلاحیت 2021 کے مقابلے میں 80 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد سعودی عرب کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا اور خطے میں گیس کے شعبے میں آرامکو کی قیادت کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ اس ضمن میں جعفورہ گیس فیلڈ پروجیکٹ پر 11 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جو ملک کے توانائی کے شعبے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
کمپنی نے اپنی ڈاؤن اسٹریم اور پیٹروکیمیکل سرگرمیوں میں بھی وسعت پیدا کی ہے۔ اس سلسلے میں چین میں فوجیان ریفائننگ اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس کے قیام کے علاوہ سینوپیک کے ساتھ شراکت داری جیسے منصوبے جاری ہیں۔ اسی طرح آرامکو نے ہائیڈروجن ایندھن، کاربن کیپچر ٹیکنالوجی، اور امونیا برآمدات کے منصوبوں پر بھی کام تیز کر دیا ہے، تاکہ مستقبل کی کم کاربن توانائی کی منڈی میں اپنا کردار مضبوط بنایا جا سکے۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق آرامکو کی یہ کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ کمپنی نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی بلکہ سب سے کم لاگت میں تیل پیدا کرنے والی اداروں میں شامل ہے۔ کم قیمت پر تیل نکالنے کی صلاحیت اسے دیگر عالمی کمپنیوں کے مقابلے میں برتری فراہم کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
یہ نتائج سعودی عرب کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ آرامکو کی آمدنی ملک کے ترقیاتی منصوبوں، خصوصاً ویژن 2030، کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود آرامکو کی مستحکم مالی کارکردگی حکومت کو پائیدار اقتصادی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتی ہے۔
کمپنی کے حالیہ اقدامات سے واضح ہے کہ آرامکو اب صرف منافع کی تقسیم پر توجہ نہیں دے رہی بلکہ سرمایہ کاری اور نئی ٹیکنالوجی میں توازن پیدا کر رہی ہے۔ کمپنی کے نئے اقدامات جیسے ہائیڈروجن فیول پروجیکٹس، امونیا پیداوار، اور کاربن کیپچر اسکیمیں اس کے مستقبل کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں، جو صاف توانائی کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
عالمی تیل منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور طلب میں سست روی کے خدشات کے باوجود، آرامکو اپنی کم لاگت پیداواری صلاحیت، مضبوط انفراسٹرکچر اور حکمتِ عملی کی بدولت ان چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کمپنی کی طویل مدتی حکمتِ عملی — جس میں لاگت میں کمی، پیداوار میں وسعت، اور نئی توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری شامل ہے — اسے آنے والے برسوں میں بھی مستحکم منافع برقرار رکھنے میں مدد دے گی۔
یہ نتائج عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی اطمینان بخش ہیں۔ آرامکو بدستور دنیا کی سب سے زیادہ منافع کمانے والی پبلک کمپنیوں میں شامل ہے، اور اس کی باقاعدہ منافع کی ادائیگیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کر رہی ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آرامکو کے تیسرے سہ ماہی کے نتائج اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ کمپنی عالمی توانائی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھنے اور ترقی کی سمت گامزن ہے۔ پیداوار میں اضافہ، کیش فلو میں بہتری، قرضوں میں کمی، اور طویل مدتی توانائی منصوبوں پر عمل درآمد اس بات کا ثبوت ہیں کہ آرامکو نہ صرف موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ مستقبل کی توانائی کی دنیا میں اپنی قیادت کو برقرار رکھنے کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔
