ٹیسلا کے شیئر ہولڈرز نے ایلون مسک کو کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر کام جاری رکھنے کے لیے ایک تاریخی معاوضے کی منظوری دے دی ہے، جس کی مالیت 1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ رقم ایلون مسک کو نہ صرف موجودہ دنیا کے امیر ترین شخص کے طور پر مزید مستحکم کرے گی بلکہ انہیں تاریخ کے پہلے ٹریلین ائیر فرد بننے کا موقع بھی فراہم کرے گی، بشرطیکہ وہ کمپنی کے طے کردہ اہداف میں کامیاب ہوں۔
اس پیکج کے تحت ایلون مسک کو ٹیسلا کی مارکیٹ ویلیو کو 8,500 ارب ڈالر تک پہنچانا ہوگا، جو موجودہ قدر کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہے۔ اہداف میں 2 کروڑ الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرنا، ایک کروڑ خودکار ڈرائیونگ سبسکرپشنز فراہم کرنا، 10 لاکھ انسان نما روبوٹس تیار و فروخت کرنا، اور روبوٹ ٹیکسیوں کی کمرشل سروس قائم کرنا شامل ہے۔ علاوہ ازیں انہیں 12 سہ ماہیوں تک کمپنی کی آمدنی کو 400 ارب ڈالر برقرار رکھنا ہوگا، جو موجودہ آمدنی کے مقابلے میں ناقابلِ یقین حد تک زیادہ ہے۔
ایلون مسک نے اس موقع پر امریکی شہر آسٹن میں ٹیسلا کے سالانہ شیئر ہولڈرز ایونٹ میں خطاب کیا اور کمپنی کے آپٹیمس روبوٹس کے ساتھ رقص کرتے ہوئے انہیں مستقبل کی سب سے بڑی پراڈکٹ قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ روبوٹس طبی خدمات سے لے کر زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب لا سکتے ہیں۔
یہ تاریخی پیکج گزشتہ پیش رفت سے مختلف ہے، کیونکہ 2018 میں ٹیسلا نے ایلون مسک کے لیے 56 ارب ڈالرز کے پیکج کی منظوری دی تھی، جسے عدالت نے غیر مناسب قراردیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ اس بار 75 فیصد شیئر ہولڈرز نے اس تاریخی معاوضے کی منظوری دے کر ایلون مسک پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، حالانکہ متعدد سرمایہ کاراس کے خلاف تھے۔
ماہرین اور ناقدین کے مطابق، اس منصوبے سے ایک فرد کے گرد طاقت مرکوز ہو سکتی ہے، اور کمپنی کو درپیش چیلنجز کو نظر انداز کرنے کا خدشہ ہے۔ تاہم اگر ایلون مسک اہداف میں کامیاب ہو گئے، تو وہ دنیا کے پہلے ٹریلین ائیر بن جائیں گے اور کمپنی کی تاریخ میں ایک نئی راہ قائم کریں گے۔
