واشنگٹن / بوداپیسٹ:امریکا نے اپنے یورپی اتحادی ہنگری کو روسی تیل اور گیس کی خریداری پر عائد پابندیوں سے ایک سال کی عارضی چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ہنگری نے امریکا سے تقریباً 600 ملین ڈالر مالیت کی قدرتی گیس خریدنے کا وعدہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں اسے روسی توانائی کی درآمدات پر پابندی سے عارضی استثنیٰ فراہم کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے توانائی کے میدان میں دوطرفہ تعاون اور یورپی توانائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا۔
یاد رہے کہ امریکا نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر سخت معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن میں تیل اور گیس کی خرید و فروخت پر بھی سخت کنٹرول شامل ہیں۔ تاہم ہنگری کو اس رعایت کے ذریعے توانائی کے بحران سے عارضی ریلیف حاصل ہو گا، جب کہ امریکا کو اپنی قدرتی گیس کے لیے ایک نیا بڑا خریدار ملے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ فیصلہ واشنگٹن اور بوداپیسٹ کے درمیان تعلقات میں عملی مفاہمت کی علامت ہے، جو روس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے امریکی منصوبے کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔
