اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ تازہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں سال ستمبر 2025 کے دوران اپنے مجموعی قرض میں 852 ارب روپے کی نمایاں کمی کی ہے، جو حالیہ سالوں میں ریکارڈ ہونے والی سب سے بڑی یک ماہہ کمیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین اس کمی کو حکومتی مالیاتی نظم و ضبط، بہتر قرض مینجمنٹ، مضبوط مالیاتی فیصلوں اور اخراجات پر کنٹرول کا براہِ راست نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
ستمبر کے اختتام تک حکومت کا مجموعی قرض کم ہو کر 76 ہزار 605 ارب روپے رہ گیا، جو اگست 2025 میں 77 ہزار 458 ارب روپے تھا۔ اس ایک ماہ میں قرض کے حجم میں ہونے والی کمی نہ صرف مالیاتی حکمت عملی کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ بھی اشارہ دیتی ہے کہ حکومت قرض کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے فعال انداز میں اقدامات کر رہی ہے۔ اس رجحان کو ملکی معاشی صحت میں بہتری کی ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مقامی قرض میں 649 ارب روپے کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے بعد مقامی قرضہ کم ہو کر 53 ہزار 424 ارب روپے رہ گیا—جو اگست میں 54 ہزار 73 ارب روپے تھا۔ مقامی قرض میں اس نمایاں کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے اندرونی قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ، مؤثر ٹریژری مینجمنٹ اور سودی ادائیگیوں میں کمی جیسے اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کیا ہے، جس نے مالیاتی دباؤ کو کم کرنے میں کردار ادا کیا۔
اسی دوران بیرونی قرض میں 203 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، اور ستمبر 2025 کے اختتام پر بیرونی قرض 23 ہزار 181 ارب روپے کی سطح پر آ گیا، جو گزشتہ ماہ 23 ہزار 385 ارب روپے تھا۔ معاشی تجزیہ نگاروں کے مطابق بیرونی قرض میں کمی کا اہم سبب روپے کی قدر میں بتدریج استحکام، کچھ پرانے قرضوں کی ادائیگی کا مکمل ہونا اور غیر ضروری بیرونی فنانسنگ پروگراموں کی تنظیم نو ہے، جس نے بیرونی مالیاتی بوجھ کو محدود کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قرض میں یہ کمی ایک مثبت معاشی اشارہ ہے، لیکن اسے پائیدار بنانے کے لیے حکومت کو مالیاتی اصلاحات، ریونیو میں اضافہ، سرکاری اداروں کی بحالی، اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی پالیسیوں پر مسلسل عمل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق قرض میں کمی معیشت کو مضبوط سمت کی طرف لے جا رہی ہے، تاہم یہ استحکام اس وقت تک برقرار نہیں رہ سکتا جب تک حکومت طویل المیعاد پالیسیوں کو ترجیح نہ دے۔
معاشی حلقوں کے مطابق صرف ایک ماہ میں 852 ارب روپے کی کمی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومتی مالیاتی پالیسیز نتائج دینا شروع ہو چکی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں قرض کے حجم، سودی ادائیگیوں اور بجٹ خسارے میں مزید کمی ممکن ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط امید کی کرن ہے۔
