اسلام آباد:پاکستان کی معاشی فضا میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس نے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر پاکستان کی طرف مبذول کر دی ہے۔ عالمی مالیاتی جریدے بلومبرگ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی ڈالر بانڈز کی عالمی مارکیٹ میں شاندار واپسی نے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا بلکہ اسے دگناکردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان کے ڈالر بانڈز 24.5 فیصد ریٹرن کے ساتھ پورے ایشیا میں پہلے نمبر پر رہے، جو کسی بھی بحران زدہ معیشت کے لیے غیر معمولی کارکردگی سمجھی جا رہی ہے۔
بلومبرگ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ دو سال کے دوران شدید معاشی دباؤ، قرضوں کے بوجھ اور مالی عدم استحکام کے باوجود عالمی مارکیٹ میں ایک مضبوط پوزیشن کے ساتھ واپسی کے لیے جو تیاری کی ہے وہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ اس سلسلے میں اہم ترین پیشرفت عالمی ریٹنگ ایجنسیوں ایس اینڈ پی گلوبل اور فچ ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری ہے، جس نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی مالیاتی نظام میں قابل اعتماد شراکت دار کی حیثیت اختیار کرنے جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے موجودہ بانڈز کی قدر کو بڑھانے میں کامیاب رہا ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی ایک واضح حکمت عملی تشکیل دے چکا ہے۔ حکومت رواں سال یوآن بانڈز کے اجرا کی مکمل تیاری کر رہی ہے، جبکہ 2026 میں یورو بانڈ مارکیٹ میں واپسی کا جامع منصوبہ بھی ترتیب دیا جا چکا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدامات پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کے نئے دروازوں تک رسائی فراہم کریں گے، جس سے ملک کو سستی بیرونی فنانسنگ اور بہتر معاشی مواقع میسر آئیں گے۔
پاکستانی بانڈز کی بڑھتی ہوئی ویلیو نہ صرف بین الاقوامی سرمایہ کاروں بلکہ خطے کے مالیاتی تجزیہ کاروں کے لیے بھی ایک اہم اشارہ ہے کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری کا عمل حقیقت میں جاری ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات، اور غیر ضروری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات پر مستقل مزاجی سے عمل کرتی رہی تو پاکستان عالمی مارکیٹ میں ایک پائیدار اور مضبوط مالی پلیئر کے طور پر دوبارہ ابھر سکتا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں اس امید کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستانی بانڈز کی قدر میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان کے بیرونی قرضوں کے دباؤ میں کمی اور معیشت کے استحکام میں مدد ملے گی۔
پاکستان کے لیے یہ نہ صرف مالیاتی میدان میں ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی معاشی ساکھ کی بحالی کی جانب ایک مضبوط قدم بھی ہے، جو آنے والے برسوں میں بیرونی سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے نئے مواقع کھول سکتا ہے۔
