کرپٹو مارکیٹ میں مندی شدت اختیار کرگئی ہے اور بٹ کوائن سات ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ کر سرمایہ کاروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ اکتوبر میں بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 1,26,000 ڈالر تک پہنچ گئی تھی، مگرنومبر میں تیزی سے گرتے رجحان کے باعث اس کی قدر 90 ہزار ڈالر سے بھی نیچے آ گئی، جو تقریباً 30 فیصد کمی ہے۔
دوسری جانب ایتھیریم بھی شدید دباؤ کا شکار ہے، جو اگست میں 4,955 ڈالر کی سطح پر تھا مگر رواں ماہ 40 فیصد گھٹ کر 2,997 ڈالر پر آ گیا۔ ماہرین کے مطابق بٹ کوائن کا 50 ہفتوں کے موونگ ایوریج سے نیچے آ جانا اور ہفتہ وار کلوزنگ کا ایک لاکھ ڈالر سے کم ہونا مارکیٹ میں خوف اور غیر یقینی فضا بڑھا رہا ہے۔
اس مندی کے ماحول میں کرپٹو فراڈ کے کیسز بھی سامنے آ رہے ہیں، جن میں معروف کرپٹو اسکیم چلانے والی ’دولت کی دیوی‘ کو 11 سال قید کی سزا سنائی جانا سب سے بڑا واقعہ ہے، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید متاثر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی معاشی حالات، ریگولیٹری دباؤ اور مارکیٹ کے تکنیکی سگنلز سرمایہ کاروں کے لیے واضح خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں، لہٰذا انہیں ضرورت ہے کہ محتاط حکمتِ عملی اپنائیں، مضبوط سپورٹ لیولز پر نگاہ رکھیں اور قانونی و مالی خطرات کا جائزہ لینے کے بعد ہی فیصلہ کریں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ مندی عارضی بھی ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے طویل المدتی اثرات کرپٹو انڈسٹری کے مستقبل پر گہرے نقوش چھوڑ سکتے ہیں۔
