چین تیانشی کا سفر ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک غیر معمولی مثال بن کر سامنے آیا ہے، جو صرف چھ برس قبل تک گمنامی میں ایک چھوٹی سی اسٹارٹ اپ کمپنی چلا رہا تھا جو مصنوعی ذہانت کے چِپس تیار کرتی تھی اور جس کا 95 فیصد انحصار ہواوے پر تھا، مگر 2019 میں ہواوے کے اپنا چِپ سسٹم بنانے کے فیصلے نے اس کے کاروبار کو شدید بحران میں ڈال دیا۔
یہ بحران امریکی پابندیوں کے بعد اس وقت سنہری موقع میں بدل گیا جب واشنگٹن نے چین کی جدید چِپس تک رسائی روک دی، جس کے جواب میں بیجنگ نے "چائنا میڈ” پالیسی کے ذریعے مقامی کمپنیوں کو بھرپور سرکاری سپورٹ فراہم کی، اور یہی حکومتی چھتری تیانشی کو راتوں رات ٹیک ورلڈ کا بڑا نام بنا گئی۔
ان کی کمپنی Cambricon Technologies کے حصص دو سال میں 765 فیصد تک بڑھ گئے اور کمپنی میں اپنے 28 فیصد حصص کی بدولت ان کی دولت بڑھ کر 22.5 ارب ڈالر ہو گئی، جس نے انہیں چالیس سال سے کم عمر دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل کر دیا۔ یہ عروج اس بڑے تکنیکی رجحان کی بھی عکاسی کرتا ہے جس میں چین ریاستی کنٹرول کے بعد ٹیکنالوجی پر مبنی قومی کمپنیوں کو فروغ دے رہا ہے، تاہم تجزیہ کار اس تیز رفتار ترقی کو ممکنہ طور پر عارضی قرار دیتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر سرکاری حمایت کم ہوئی تو یہ رفتار برقرار رہنا مشکل ہو جائے گی۔
اس دوران امریکی پابندیوں نے NVIDIA کے خلا کو بڑھا کر Cambricon کو فائدہ پہنچایا، اگرچہ اس کی نئی چپ "Siyuan 690” ابھی بھی NVIDIA کے پیچیدہ سافٹ ویئر سسٹم سے کئی سال پیچھے سمجھی جاتی ہے۔ تیانشی، جو 1985 میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے اور غیر معمولی ذہانت کے باعث چائنیز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ مکمل کرنے کے بعد اپنے بھائی کے ساتھ DianNao پروسیسر پر کام سے مشہور ہوئے، نے 2016 میں Cambricon کی بنیاد رکھی اور 2017 میں ہواوے سے بڑا معاہدہ کیا، مگر 2022 میں امریکی بلیک لسٹنگ نے ان کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا۔
اس کے باوجود پابندیوں نے مارکیٹ میں مقامی چپس کی شدید طلب پیدا کی، جس سے کمپنی کی آمدنی میں 500 فیصد اضافہ ہوا، اگرچہ مقابلہ سخت ہے کیونکہ ہواوے، Moore Threads، MetaX اور Biren Technology جیسی کمپنیاں بھی میدان میں موجود ہیں۔ تجزیہ کار اب بھی خبردار کر رہے ہیں کہ AI چپس کی مارکیٹ انتہائی اتار چڑھاؤ کا شکار ہے اور سرمایہ کار ابھی اس بات کا درست اندازہ نہیں لگا پا رہے کہ بڑے AI ماڈلز کی تکنیکی ضروریات کتنے بڑے انفراسٹرکچر کا تقاضا کرتی ہیں۔
