اسلام آباد: قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک اہم رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ پانچ بڑی عالمی فارما سیوٹیکل کمپنیاں پاکستان میں اپنے مینوفیکچرنگ آپریشنز ختم کرکے پیداوار کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کا فیصلہ کرچکی ہیں۔ ان کمپنیوں میں بائر کا لاہور یونٹ،آئی سی آئی پاکستان کے ملٹی سٹی آپریشنز، سانوفی-اونٹیس کا کورنگی پلانٹ، فائزر کی کراچی پروڈکشن سائٹ اور نووارٹس کی ویسٹ وارف فیکٹری شامل ہیں، جو کئی دہائیوں سے پاکستان میں ادویات کی تیاری اور سپلائی کا حصہ رہی ہیں۔
وزیرِ صحت سید مصطفٰی کمال نے قومی اسمبلی میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کسی بندش یا خاتمے کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی کاروباری حکمتِ عملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کا یہ فیصلہ ایسے ماڈل کی طرف منتقلی ہے جس میں مقامی ملکیت اور پارٹنرشپ کو فروغ دیا جائے، جبکہ ادویاتی پیداوار کا تسلسل برقرار رہے۔
وزیرِ صحت کے مطابق حکومت نے فارما انڈسٹری کی مقامی استعداد بڑھانے، نئی سرمایہ کاری لانے اور پیداواری عمل کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے کئی اقدامات شروع کیے ہیں۔ کمپنیوں کی جانب سے اثاثوں کی منتقلی کے نتیجے میں مقامی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور کاروباری تجربہ حاصل کرنے کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔
فارما سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی دباؤ، خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، ایکسچینج ریٹ میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور آپریشنل اخراجات میں اضافہ وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے ان کمپنیوں کو اپنی عالمی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق پاکستان میں ایسی صورتحال لوکل مینوفیکچررز کے لیے ایک موقع بھی ہے کہ وہ بڑے عالمی اداروں کی گنجائش سنبھال کر مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط کریں۔
ماہرین نے لکی کور انڈسٹریز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمپنی پہلے ہی بین الاقوامی فارما کمپنیوں کے پلانٹس اور اثاثے سنبھال کر مقامی انڈسٹری کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس سے نہ صرف ملکی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
