اسلام آباد:پاکستانی حکومت نے برآمدات میں اضافہ اور زرِ مبادلہ کے استحکام کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملائیشیا کو سالانہ 200 ملین ڈالر (20 کروڑ ڈالر) مالیت کا گوشت برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیرِ اعظم کی ہدایت پر قائم کمیٹی کا اعلیٰ سطح کا اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا جس کی مشترکہ صدارت وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان اور وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کی۔
اجلاس میں سرکاری محکموں، نجی شعبے کے برآمد کنندگان، لائیو سٹاک سیکٹر، پروسیسنگ یونٹس اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کر کے برآمدی اہداف، رسد و ترسیل کے مسائل اور مارکیٹ رسائی کے حکمتِ عملیاں تفصیلی طور پر زیرِ بحث لائیں۔
کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ ملائیشیا کے لیے سالانہ 200 ملین ڈالر تک گوشت برآمد کرنے کے اہداف کو مرحلہ وار مکمل کرنے کے لیے ایک مشترکہ پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل (PPP) اپنایا جائے۔ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ حکومت نجی برآمد کنندگان کے اشتراک سے گوشت کی پروسیسنگ، ریفریجریٹڈ پیکنگ، کوالٹی کنٹرول اور لاجسٹک چین کو تقویت دے کر ترسیل کو زیادہ مؤثر اور تیز بنائے گی تاکہ پاکستانی گوشت بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی طور پر دستیاب ہو سکے۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی خاص طور پر ہڈی والا (Bone-in) گوشت برآمد کرنے کے قابل عمل حل پر کام کر رہی ہے تاکہ مارکیٹ کی مانگ کے مطابق پراڈکٹس فراہم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ تجاویز میں حلال سرٹیفیکیشن، فوڈ سیفٹی اور کوالٹی اسٹینڈرڈز (SPS)، جانوروں کی صحت کے سرٹیفیکیٹس، ٹریس ایبلیٹی اور لیبلنگ کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ ملائیشیا جیسے حساس بازاری تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہداف کی کامیاب عمل آوری سے نہ صرف زرِ مبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ لائیو اسٹاک فارمرز، پروسیسرز اور ایکسپورٹرز کو براہِ راست منافع ملے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی گوشت انڈسٹری کی قدرِ افزائی ہوگی۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اگر پاکستان مرحلہ وار یہ ہدف حاصل کر لے تو سالانہ کروڑوں ڈالر کی نئی برآمدی آمدنی ملک میں داخل ہو سکتی ہے۔
کمیٹی نے چیلنجز کا تفصیلی جائزہ بھی کیا جن میں سخت کوالٹی کنٹرول، کولڈ چین انفرااسٹرکچر کی کمی، بین الاقوامی نگرانی اور ریگولیٹری تقاضے، برانڈنگ اور مارکیٹ انٹیلجنس شامل ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومتی تجاویز میں ریفریجریٹڈ لاجسٹکس کی سرمایہ کاری، ایکسپورٹرز کے لیے سبسڈی یا سہولت پیکیجز، اسٹینڈرزڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) کی ترتیب، اور خصوصی ایکسپورٹ زونز کی تشکیل شامل ہیں۔
کمیٹی نے آئندہ چند ماہ کے لیے روڈ میپ بھی تجویز کیا ہے جس میں پائلٹ کھیپیں، ملائیشیا کے ساتھ تجارتی مذاکرات، معیار کی جانچ کے لیے لیبارٹری صلاحیت میں اضافہ اور ابتدائی MOU/ایگریمنٹس شامل ہیں۔ وفاقی حکومت نے نجی سیکٹر کو شراکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ ماڈل کے تحت روزانہ کی پروڈکشن شیڈول، کنٹریکٹ فارمنگ کی سہولت اور برآمدی شیڈول کو مربوط کیا جائے گا۔
حکومت کی توجہ ہے کہ یہ اقدام ملک کی برآمدی بنیاد کو متنوع بنائے اور گوشت جیسی اشیاء میں مستقل اور قابلِ اعتبار برآمدی چین قائم کی جائے۔ آئندہ ہفتوں میں متعلقہ محکمے ملائیشیا کی مارکیٹ کی تفصیلی مانگ، تکنیکی تقاضے اور درکار سرٹیفیکیشنز کی حتمی فہرست تیار کریں گے، جبکہ نجی سیکٹر کے ساتھ مل کر ابتدائی برآمدی کنٹریکٹس طے کیے جائیں گے۔
