اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سونے کی درآمد اوربرآمد پرعائد پابندیوں کوختم کرنے کانوٹیفکیشن جاری کرکےملکی تجارتی اور معاشی منظرنامے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کےبعدسونے کی عالمی تجارت سے متعلق معطل شدہ ایس آر او دوبارہ بحال کردیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی قیمتی دھاتوں اور زیورات کی درآمد و برآمد کے فریم ورک میں بھی چند ترامیم کی گئی ہیں تاکہ شفافیت اور خودکار نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گزشتہ مئی میں سونے کی ایکسپورٹ اور امپورٹ پر عارضی پابندی عائد کی گئی تھی۔ وزارتِ تجارت نے 6 مئی 2025 کو سونے کی تجارت منظم کرنے والا ایس آر او 60 روز کے لیے معطل کیا تھا، جس کی بنیادی وجہ سونے کی اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں سے متعلق شکایات بتائی گئی تھیں۔ تاہم حالیہ مہینوں میں سونے کی اسمگلنگ کی کوئی شکایت موصول نہ ہونے کے باعث حکومت نے پابندی ختم کرنے اور ایس آر او کو دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ماہرین اقتصادیات اور تجارتی امور کے تجزیہ کار اس اقدام کو نہ صرف ملکی مارکیٹ کے لیے مثبت قدم قرار دے رہے ہیں بلکہ اسے بین الاقوامی تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی اہم قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے سونے کی قانونی تجارت میں اضافہ ہوگا، غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی، اور ملکی معیشت میں شفافیت اور اعتماد پیدا ہوگا۔
تجزیہ کاروں نے مزید کہا کہ پابندی کے خاتمے سے سرمایہ کاروں کو سونے کی قانونی خرید و فروخت میں سہولت حاصل ہوگی، جس سے مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہیں گے۔ حکومتی ذرائع نے بھی کہا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے مثبت اور پیشہ ورانہ تجارتی کردار کو اجاگر کرے گا اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
