پاکستان کی بزنس کمیونٹی ایک طویل عرصے بعد اہم اتحاد کی شکل میں دوبارہ یکجا ہوگئی ہے، جس کی قیادت فیڈریشن آف چیمبرز کے پیٹرن انچیف اور سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز کر رہے ہیں۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوہر اعجاز نے واضح اعلان کیا کہ بزنس سیکٹر ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے متفق اور متحد کھڑا ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ اقتصادی فیصلے صرف اصل اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیے جائیں۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ملک کو دفاعی میدان میں ناقابلِ تسخیر بنایا ہے, اب بزنس کمیونٹی کا فرض ہے کہ پاکستان کو معاشی محاذ پر بھی مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ چند مراعات یافتہ گروہوں کے بجائے ملک بھر کے 400 سے زائد چیمبرز اور فیڈریشن کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبہ اس وقت بلند شرح سود، مہنگی بجلی و گیس، بھاری ٹیکسوں اور آئی پی پیز کے غیر متوازن معاہدوں کے سبب شدید دباؤ میں ہے، لہٰذا فوری اصلاحات وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بزنس کمیونٹی کے مابین اختلافات ختم کروا دیے گئے ہیں اور اب یہ تمام قوتیں ایک پلیٹ فارم پر کھڑی ہیں۔ "اب کوئی سیاست نہیں ہوگی، ہم صرف صنعت چلائیں گے،” انہوں نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔ گوہر اعجاز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا بزنس لیڈرز کا مشن ہے اور پاکستان کو دفاع کی طرح معیشت میں بھی ایشین ٹائیگر بنانا ہے۔
اس موقع پر بزنس لیڈرز ایس ایم تنویر اور میاں انجم نثار نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط اور معتبر مقام دلوایا ہے، اور بزنس کمیونٹی ہر قدم پر پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اعتراف کیا کہ حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن مستقل اور دیرپا اصلاحات صرف مشاورت کے مضبوط نظام سے ممکن ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بزنس کمیونٹی کا حتمی مقصد ملک کو آئی ایم ایف کے سہارے سے آزاد کروانا ہے۔ ہم حکومت کے ساتھ مل کر ایسا معاشی ماڈل تشکیل دیں گے جو ملک کو بحرانوں کے چنگل سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرے بزنس رہنماؤں نے اعلان کیا۔
