اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں جیک یاس مالیاتی دنیا کا کوئی جانا پہچانا نام نہیں تھے۔ Binghamton یونیورسٹی سے ریاضی اور معاشیات کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے روایتی بینکاری کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ لاس ویگاس اور نیویارک کے جوئے خانوں کا رخ کیا، جہاں وہ پوکر اور گھڑ دوڑ کے مقابلوں میں قسمت آزمانے لگے۔ یہ سرگرمیاں محض جوا نہیں تھیں بلکہ ان کے لیے ریاضی، تجزیے اور امکانات کو جانچنے کا عملی میدان تھیں۔ انہی تجربات نے انہیں ایسا اعتماد دیا کہ ان کا تحقیقی مقالہ “گھڑ دوڑ کا معاشی تجزیہ” Gambling Times میں بھی شائع ہوا۔
1980 کی دہائی کے آغاز میں یاس نے جوئے کو خیر باد کہہ دیا، جب بلینئر اسرائیل اینگلینڈر نے ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے فِلاڈیلفیا اسٹاک ایکسچینج میں ایک ٹریڈنگ سیٹ سرمایہ کاری کی شکل میں اُن کے نام کر دی۔ یہ وہ موڑ تھا جہاں یاس کا سفر پوکر ٹیبل سے اٹھ کر وال اسٹریٹ کی پیچیدہ مالیاتی منڈیوں تک پہنچ گیا۔
1987 میں انہوں نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر Susquehanna International Group (SIG) کی بنیاد رکھی، جو ’’احتمالات کے نظریے‘‘ اور ’’کھیل کی حکمتِ عملی‘‘ کو مالیاتی منڈیوں میں استعمال کرنے کی پہلی بڑی مثال تھی۔ کمپنی نے options اور مالیاتی مشتقات کی ٹریڈنگ میں تیزی سے مقام بنایا اور چند سالوں میں عالمی سطح پر سب سے بڑی بروکریج اور ٹریڈنگ فرموں میں شامل ہو گئی۔ آج SIG کے دنیا بھر میں 3000 سے زائد ملازمین ہیں اور اس کا منفرد تربیتی نظام پوکر کی حکمتِ عملی پر مبنی ہے، جس کی بدولت کمپنی کے ٹریڈرز World Series of Poker میں تین سنہری بریسلٹ تک جیت چکے ہیں۔
یاس کے نزدیک مالیاتی منڈیاں ’’نامکمل معلومات کا کھیل‘‘ ہیں، بالکل پوکر کی طرح، جہاں جیت محض قسمت پر نہیں بلکہ درست حساب، امکانات کی سمجھ اور مخالف کی غلطیوں کو پہچاننے پر منحصر ہوتی ہے۔ اسی فلسفے پر چلتے ہوئے SIG دنیا بھر میں اختیارات، مشتقات اور مختلف Prediction Markets میں بھی سرگرم ہے۔ یاس معمولی قیمت کی بے ضابطگی کو بھی ایک بڑا موقع سمجھتے ہیں، جو پوکر کھلاڑی کے اندازِ سوچ سے ملتا جلتا ہے۔
ان کی مالی کامیابیاں حیرت انگیز حد تک بڑی ہیں۔ مختلف تخمینوں کے مطابق جیک یاس کی مجموعی دولت 60 سے 67 ارب ڈالر کے درمیان ہے، جبکہ نومبر 2025 میں بلومبرگ کے مطابق یہ 60 ارب ڈالر ہے۔ ان کی دولت کا بڑا حصہ SIG میں 50 سے 75 فیصد ملکیت سے آتا ہے۔ کمپنی ByteDanceجو TikTok کی اصل کمپنی ہے—میں بھی 15 فیصد حصہ رکھتی ہے، جو یاس کی مجموعی دولت کو مزید بلند کرتا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق 2009 سے 2018 تک ان کی آمدنی 11 ارب ڈالر سے بڑھ گئی، جس کی تفصیلات ProPublica کی لیک شدہ دستاویزات میں سامنے آئیں۔
اس غیر معمولی دولت، عالمی اثر و رسوخ اور مالیاتی دنیا میں بے پناہ کامیابی کے باوجود جیک یاس میڈیا سے دور رہتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو خاموشی سے آگے بڑھانا پسند کرتے ہیں۔ آج وہ ’’فوربس‘‘ کے مطابق پنسلوانیا کے امیر ترین جبکہ دنیا کے 25 امیر ترین افراد میں شامل ہیں یہ سب پوکر ٹیبل پر سیکھے گئے نظم و ضبط، امکانات کے استعمال اور ذہانت پر مبنی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔
