سرکاری اعلامیہ کے مطابق، پیٹرول کی نئی قیمت 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہوگی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 279 روپے 65 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ قیمتیں اگلے 15 دن تک نافذ العمل رہیں گی۔ پیٹرولیم ڈویژن نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ کمی عالمی خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام برقرار رہنے کی صورت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف عوام کی جیب پر دباؤ کم کرے گا بلکہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک شعبے کو بھی مالی سہولت فراہم کرے گا۔ اس سے روزمرہ کی ٹرانسپورٹ کی لاگت میں کمی اور مہنگائی کے اثرات کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔
شہریوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے نہ صرف روزمرہ کے سفر کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک شہری نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “یہ فیصلہ ہمارے لیے واقعی مددگار ثابت ہوگا، خاص طور پر گاڑی چلانے والے اور روزانہ کام پر آنے جانے والے افراد کے لیے۔
کاروباری حلقوں نے بھی قیمتوں میں کمی کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا کہ اس سے مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوگا اور صارفین کو ریلیف محسوس ہوگا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق، عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور ملکی اقتصادی حالات کو مستحکم کرنے کے اقدامات نے قیمتوں میں کمی کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں تو حکومت مستقبل میں مزید ریلیف اقدامات بھی کر سکتی ہے، تاکہ مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یہ کمی عوامی ریلیف کا ایک اہم قدم ہے۔ اس سے نہ صرف صارفین کی جیب پر دباؤ کم ہوگا بلکہ معاشی سرگرمیوں، روزانہ ٹرانسپورٹ اور ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عوام کا اعتماد بڑھے گا اور معیشت میں استحکام کے لیے حکومت کے اقدامات کی ساکھ مضبوط ہوگی۔
