واشنگٹن: امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکی منڈی کو غیر ضروری طور پر متاثر کرنے والی پالیسیوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں معاشی ٹیم کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے سخت لہجے میں سوال کیا کہ بھارت کو امریکی مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر چاول ڈمپ کرنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ بھارتی مصنوعات کو مناسب محصولات ادا کرنے چاہئیں، “کیا انہیں چاول پر کوئی خصوصی رعایت حاصل ہے؟” صدر ٹرمپ نے استفسار کیا۔
وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ابھی تک بھارت کے ساتھ ایک جامع تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہا ہے، اور بعض معاملات اب بھی زیر غور ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اس جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ اگر بھارت نے منصفانہ تجارت کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو واشنگٹن مزید سخت ٹیرف نافذ کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند ماہ میں دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے۔ بھارت کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی ڈیل کو بار بار مؤخر کیے جانے کے بعد صدر ٹرمپ پہلے ہی بھارت پر بعض درآمدی شعبوں میں 50 فیصد ٹیرف عائد کر چکے ہیں۔ لیکن چاول کے معاملے نے اس کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے مستقبل میں تجارتی محاذ پر مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ بھارت پر “فئیر ٹریڈ” کے اصول نافذ کرنا چاہتا ہے جبکہ بھارت اپنے زرعی اور صنعتی مفادات کے تحفظ کے لیے سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ نہ صرف باہمی تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی منڈیاں بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گی۔
