وینزویلا کی تباہ حال آئل انڈسٹری کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ بظاہر ایک بڑا معاشی موقع دکھائی دیتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ ایک انتہائی مہنگا، پیچیدہ اور طویل مدتی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، جس کی لاگت 100 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ دہائیوں پر محیط کرپشن، سرمایہ کاری کی شدید کمی، انتظامی نااہلی اور منظم چوری نے وینزویلا کے تیل کے انفراسٹرکچر کو اس حد تک تباہ کر دیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر رکھنے والا ملک آج اپنی صلاحیت کے ایک حصے پر کام کر رہا ہے۔
رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹیٹیوٹ برائے پبلک پالیسی سے وابستہ توانائی ماہر فرانسسکو مونالڈی کے مطابق اگر وینزویلا کو 1970 کی دہائی کی پیداوار کی سطح تک واپس لانا ہے تو آئندہ دس برسوں میں تیل کمپنیوں کو کم از کم 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جو دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی ایکسان موبل کے سالانہ عالمی سرمایہ کاری بجٹ کے ایک تہائی سے بھی زیادہ ہے، جبکہ حقیقت میں درکار سرمایہ اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
وینزویلا اس وقت روزانہ صرف 10 لاکھ بیرل تیل پیدا کر رہا ہے، جبکہ 1974 میں یہی پیداوار موجودہ سطح سے چار گنا زیادہ تھی۔ صدر نکولس مادورو کے 12 سالہ اقتدار میں تیل کی صنعت مسلسل زوال کا شکار رہی، اور حالیہ دنوں میں مادورو اور ان کی اہلیہ کی امریکی تحویل نے ملک کی سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انہیں پورا یقین ہے کہ امریکی اور مغربی آئل کمپنیاں وینزویلا میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں غیر معمولی دلچسپی لیں گی، کیونکہ وینزویلا کا خام تیل امریکا اور خلیج کی ساحلی ریفائنریز کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ کسی بھی سرمایہ کاری سے قبل سیاسی استحکام ناگزیر ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ وینزویلا کا آئل انفراسٹرکچر تقریباً کھنڈر بن چکا ہے۔ بندرگاہوں پر موجود آلات اس قدر خستہ حال ہیں کہ چین کو خام تیل لے جانے والے سپر ٹینکرز کو لوڈ کرنے میں اب پانچ دن لگتے ہیں، جبکہ ماضی میں یہی کام ایک دن میں مکمل ہو جاتا تھا۔ ڈرلنگ پیڈ توڑ کر پرزے بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے جا چکے ہیں، زیرِ زمین پائپ لائنیں کاٹ کر سکریپ میٹل بنا دی گئی ہیں، جبکہ پیراگوانا آئل ریفائننگ کمپلیکس اور چار جدید آئل اپ گریڈرز، جو کبھی وینزویلا کی طاقت سمجھے جاتے تھے، یا تو جزوی طور پر کام کر رہے ہیں یا مکمل طور پر بند پڑے ہیں۔ اس وقت وینزویلا میں صرف ایک بڑی امریکی کمپنی شیوران کام کر رہی ہے، جو خصوصی لائسنس کے تحت ملکی تیل کی پیداوار کا تقریباً 25 فیصد حصہ نکال رہی ہے، تاہم وہ بھی اپنے اثاثوں اور عملے کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایکسان موبل اور کونوکو فلپس جیسی کمپنیاں، جو ماضی میں وینزویلا میں کام کر چکی ہیں، تعمیر نو میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں، مگر وہ بھی اس وقت تک قدم آگے نہیں بڑھائیں گی جب تک سیاسی نظام واضح، پابندیاں نرم اور سرمایہ کاری کا ماحول محفوظ نہ ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عالمی تیل قیمتیں، جاری امریکی پابندیاں، بحری محاصرہ اور سابقہ قومیا جانے والے اثاثوں کے اربوں ڈالر کے تنازعات سرمایہ کاروں کے لیے بڑے خطرات ہیں۔ واشنگٹن میں توانائی امور کے ماہرین اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ اگر تیل کی قیمتیں، سیاسی استحکام اور رسک پریمیم درست سمت میں آ گئے تو مغربی تیل کمپنیاں وینزویلا میں واپسی پر غور کر سکتی ہیں، مگر فی الحال یہ منصوبہ امید، خطرے اور غیر یقینی مستقبل کے بیچ معلق دکھائی دیتا ہے۔
