سعودی عرب تیزی سے اپنے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں ایک نئے دور کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں دھاتوں کے لیے ایک باقاعدہ ایکسچینج کے قیام کے منصوبے اب عملی نفاذ کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس پیش رفت سے قبل تفصیلی فزیبلٹی اسٹڈیز مکمل کی جا چکی ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مملکت اپنے معدنی وسائل کو جدید، منظم اور عالمی معیار کے مطابق استعمال کرنے کے لیے سنجیدہ حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
توانائی، صنعت اور معدنی وسائل کے نائب وزیر خالد المدیفر نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو کے دوران اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام سعودی عرب کے معدنی شعبے کو عالمی کموڈیٹی منڈیوں سے مضبوطی سے جوڑنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
خالد المدیفر کے مطابق، مجوزہ میٹلز ایکسچینج کو محض خرید و فروخت کے ایک عام پلیٹ فارم کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا، بلکہ اسے ایک ہمہ جہت نظام کی شکل دی جا رہی ہے جو کان کنی کی پوری ویلیو چین کو سہارا دے گا۔ اس ایکسچینج کا ایک بنیادی مقصد معدنی شعبے کے لیے ایسے جدید مالیاتی ذرائع فراہم کرنا ہے جو سرمایہ کاروں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔
کان کنی کے منصوبے عموماً طویل المدتی ہوتے ہیں، جن میں ابتدائی سرمایہ کاری زیادہ اور منافع کے حصول میں وقت لگتا ہے، اس لیے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔ مجوزہ ایکسچینج ان چیلنجز کو کم کرنے میں مدد دے گا اور سرمایہ کاری کو زیادہ مستحکم اور قابلِ پیش گوئی بنائے گا۔
یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب سعودی عرب کا معدنی شعبہ غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق مملکت کے پاس تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، جن میں فاسفیٹ، سونا، تانبا اور دیگر اہم معدنیات شامل ہیں۔ یہ معدنی وسائل نہ صرف صنعتی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ جیسے جیسے مملکت میں معدنی تلاش اور دریافت کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، ویسے ویسے ایک ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے کی ضرورت بھی شدت اختیار کر رہی ہے جو قیمتوں کے تعین، شفافیت اور خطرات کے انتظام میں معاون ثابت ہو۔
نائب وزیر نے وضاحت کی کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا غیر متوقع اتار چڑھاؤ معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ کسی بھی معدنی منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار مستقبل کے حوالے سے قیمتوں کا درست اندازہ لگا سکیں۔ میٹلز ایکسچینج اس حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرے گا، کیونکہ یہ واضح قیمتوں کے اشارے، منظم تجارتی نظام اور مستقبل پر مبنی مالیاتی آلات فراہم کرے گا۔ ان کے بقول، یہ ایکسچینج ضروری معدنیات کے لیے ایک طویل المدتی وژن تشکیل دے گا، جو سرمایہ کاروں کو غیر یقینی صورتحال سے نکلنے میں مدد دے گا۔
اس منصوبے کا ایک اور اہم پہلو اس کا بین الاقوامی رُخ ہے۔ سعودی عرب کا ہدف ہے کہ وہ دنیا بھر کی بڑی کموڈیٹی ایکسچینجز میں کام کرنے والے تجربہ کار تاجروں، ویلیوایشن ماہرین اور تکنیکی صلاحیت رکھنے والے افراد کو اپنی جانب متوجہ کرے۔ مملکت کی سیاسی و معاشی استحکام، مضبوط مالیاتی نظام اور وسیع معدنی ذخائر ایسے عوامل ہیں جو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے اسے ایک پُرکشش مقام بناتے ہیں۔
خالد المدیفر کے مطابق، ایک مقامی مگر عالمی معیار کی ایکسچینج کی موجودگی ان کمپنیوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوگی جو پہلے ہی سعودی عرب میں سرمایہ کاری کر چکی ہیں، جبکہ نئی کمپنیوں کے لیے بھی یہاں کاروبار شروع کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ میٹلز ایکسچینج صرف لین دین تک محدود نہ رہے، حکام نے اس میں پیشہ ورانہ جانچ اور قیمت لگانے کے نظام کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت ماہرین معدنیات کے معیار، طلب اور رسد کے رجحانات اور عالمی منڈی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے درست ویلیوایشن فراہم کریں گے۔ اس سے سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور صنعتی صارفین کا اعتماد بڑھے گا اور یہ ایکسچینج خطے میں معدنیات کے لیے ایک مستند حوالہ جاتی مرکز بن سکے گا۔
میٹلز ایکسچینج کے قیام کا یہ منصوبہ حکومت کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت معدنی تلاش اور پیداوار کو فروغ دینے کے لیے مالی مراعات اور اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ سعودی عرب نے معدنی تلاش کے شعبے میں تقریباً 98 ملین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے 2030 تک تقریباً 182 ملین ڈالر کی مراعات مختص کی ہیں، تاکہ نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کے خطرات کم کیے جا سکیں۔ ان اقدامات کے اثرات واضح ہو رہے ہیں، کیونکہ 2024 میں معدنی تلاش پر ہونے والا خرچ 280 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
خالد المدیفر نے یہ بھی بتایا کہ 2025 میں مختلف معدنی منصوبوں کے لیے لائسنس جاری کیے گئے ہیں، جن میں مجموعی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 45 ارب سعودی ریال تک پہنچ رہا ہے، جو لگ بھگ 11.9 ارب ڈالر بنتا ہے۔ یہ منصوبے مملکت کے مختلف علاقوں اور مختلف معدنی اقسام پر مشتمل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب ایک متوازن اور متنوع کان کنی کی صنعت کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ اس سطح کی سرمایہ کاری خود اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ قیمتوں، فنانسنگ اور منصوبہ بندی کے لیے ایک مضبوط ادارہ جاتی نظام موجود ہو۔
پیداواری اہداف کے حوالے سے سعودی عرب نے نہایت بلند مقاصد طے کر رکھے ہیں۔ مملکت کا ارادہ ہے کہ وہ فاسفیٹ کی پیداوار میں دنیا کے سرفہرست دس ممالک میں شامل ہو جائے، کیونکہ یہ معدنیات زرعی پیداوار اور خوراک کے تحفظ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب سونے اور تانبے کی پیداوار میں بھی دنیا کے ٹاپ بیس ممالک میں جگہ بنانے کا خواہاں ہے۔ ان اہداف کے حصول کے لیے صرف کان کنی کی صلاحیت میں اضافہ کافی نہیں ہوگا، بلکہ ایسے مارکیٹ سسٹمز کی بھی ضرورت ہوگی جو عالمی سطح پر مسابقت کو ممکن بنائیں۔
نائب وزیر کے یہ بیانات ایک اہم بین الاقوامی تقریب، فیوچر منرلز فورم، سے قبل سامنے آئے ہیں، جو 13 سے 15 جنوری کے درمیان ریاض میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ فورم کان کنی اور معدنیات کے مستقبل پر توجہ مرکوز کرنے والا ایک بڑا عالمی پلیٹ فارم بن چکا ہے، جہاں حکومتیں، سرمایہ کار، صنعت کے ماہرین، تعلیمی ادارے اور پالیسی ساز اکٹھے ہوتے ہیں۔ خالد المدیفر کے مطابق، اس فورم کے دوران خرید و فروخت کے متعدد معاہدے طے پاتے ہیں اور بڑی سرمایہ کاری پر بات چیت ہوتی ہے، جس کا براہِ راست فائدہ سعودی عرب کو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے عالمی ایونٹس کی میزبانی سے سعودی عرب کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ معدنیات کے حوالے سے عالمی گفتگو کا مرکز بن جائے۔ سرمایہ، مہارت اور فیصلوں کا ایک ہی مقام پر اکٹھا ہونا ایک ایسی رفتار پیدا کرتا ہے جو مملکت کے طویل المدتی مفادات کے لیے نہایت اہم ہے۔ مجوزہ میٹلز ایکسچینج اس عمل کو مزید مضبوط بنائے گا اور فورم کے اثرات کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھائے گا۔
فیوچر منرلز فورم، جو حکومت کی سرپرستی میں منعقد ہوتا ہے، معدنی سپلائی چین کی مضبوطی، پائیداری اور ذمہ دارانہ طریقۂ کار کے فروغ کے لیے ایک معتبر عالمی پلیٹ فارم کے طور پر اپنی پہچان بنا چکا ہے۔ مختلف شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز کو ایک جگہ جمع کر کے یہ فورم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ معدنی ترقی معاشی فائدے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اور سماجی ذمے داریوں کو بھی مدنظر رکھے۔ میٹلز ایکسچینج کا قیام انہی مقاصد سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ شفاف قیمتوں کا تعین اور معیاری جانچ ذمہ دارانہ کان کنی کے بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔
یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب اپنے معدنی شعبے کو اقتصادی تنوع کا ایک مضبوط ستون بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ میٹلز ایکسچینج کا قیام، سرمایہ کاری کے لیے مراعات، ریگولیٹری اصلاحات اور عالمی سطح پر فعال شمولیت اس وژن کا حصہ ہیں، جس کے تحت مملکت صرف خام وسائل نکالنے تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ کان کنی اور دھاتوں کے شعبے میں ایک مکمل، جدید اور عالمی طور پر مربوط نظام تشکیل دینا چاہتی ہے۔
