اسلام آباد:اوورسیز پاکستانیوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ مشکل وقت میں ملکی معیشت کا سب سے مضبوط سہارا ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر کے مہینے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 3 ارب 60 کروڑ ڈالر وطن منتقل کیے، جو نہ صرف ایک نمایاں ریکارڈ ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر میں ماہانہ بنیاد پر 13 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اوورسیز پاکستانیوں کے پاکستان کی معیشت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رقم آئی ایم ایف پروگرام کی تین قسطوں سے بھی زیادہ بنتی ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑی معاشی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب بدستور ترسیلات زر کے حوالے سے سرفہرست رہا، جہاں سے 81 کروڑ 30 لاکھ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ متحدہ عرب امارات سے 72 کروڑ 60 لاکھ ڈالر، برطانیہ سے 56 کروڑ ڈالر جبکہ امریکا سے 30 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔ اس کے علاوہ دیگر یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں اور ایشیائی ممالک سے بھی نمایاں رقوم وطن آئیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں یہ اضافہ پاکستان کے لیے انتہائی حوصلہ افزا معاشی اشارہ ہے۔ بڑھتی ہوئی ترسیلات زر سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی بلکہ تجارتی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر دباؤ بھی کم ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر میں استحکام اور مہنگائی پر قابو پانے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ اضافے کی بڑی وجوہات میں ڈیجیٹل بینکنگ چینلز کا فروغ، ہنڈی حوالہ کے خلاف اقدامات، ترسیلات پر مراعات، اور معاشی نظم و ضبط میں بہتری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے غیر یقینی عالمی معاشی حالات کے باوجود پاکستان کی مدد کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ترسیلات زر کا یہ رجحان برقرار رہا تو پاکستان کو مستقبل میں بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کرنا پڑے گا، جس سے معاشی خودمختاری مضبوط ہوگی۔ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا رہا ہے، جو براہِ راست عوامی فلاح، گھریلو اخراجات اور سرمایہ کاری میں استعمال ہوتی ہیں۔
حکومتی حلقوں کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے مزید سہولیات اور مراعات دی جا رہی ہیں تاکہ ترسیلات زر کا یہ مثبت رجحان آئندہ مہینوں میں بھی جاری رہے۔
