بحرین منتقل ہونے والی 29 سالہ امریکی نوجوان خاتون میکائیلا میکگی کی زندگی اس وقت ایک نیا موڑ لے گئی جب ایک مختصر سفر نے انہیں مستقل طور پر خلیج میں بسنے پر آمادہ کر دیا۔
امریکی میڈیا نیٹ ورک CNBC کو دیے گئے انٹرویو میں میکائیلا میکگی نے بتایا کہ وہ ایک فوجی خاندان میں پلی بڑھیں۔ ان کی والدہ نے امریکی بحریہ میں 30 سال خدمات انجام دیں جبکہ والد 40 سالہ فوجی کیریئر مکمل کر چکے ہیں۔ میکائیلا نےخودکوفوج کی بیٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی ایک امریکی فوجی اڈے سے دوسرے اڈے تک منتقلی میں گزری۔
انہوں نے بتایا کہ بچپن کا بڑا حصہ جاپان میں گزارا، جہاں انہیں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ وہ امریکا سے باہر زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔ امریکا واپس آ کر وہ روایتی طرزِ زندگی سے ہم آہنگ نہ ہو سکیں اور بیرونِ ملک رہنے کے تجربے کی تلاش جاری رکھی۔
2020 میں وہ بحرین گئیں جہاں ان کے والد امریکی بحری اڈے میں تعینات تھے۔ اس سفر سے قبل ان کے ذہن میں مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں منفی تصورات موجود تھے، تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔
میکائیلا کے مطابق،سب سے بڑا ثقافتی جھٹکا یہ تھا کہ حالات توقع سے کہیں بہتر تھے۔ میڈیا پر دکھائی جانے والی تصویر حقیقت سے مختلف ہے۔ بحرین ایک محفوظ، پُرامن اور خوش آئند ملک ہے، جہاں میں نے کبھی اجنبیت محسوس نہیں کی۔
انہوں نے بحرین میں تین ماہ گزارے اور اسی دوران اس ملک سے محبت ہو گئی۔ امریکا واپس آتے ہی انہوں نے مستقل طور پر بحرین منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا اور دسمبر 2022 میں عملی طور پر وہاں منتقل ہو گئیں۔
ابتدا میں وہ اپنے والدین کے ساتھ رہیں، بعد ازاں دارالحکومت منامہ کے قریب تین بیڈ روم، چار باتھ روم، سوئمنگ پول اور گیراج پر مشتمل ایک ذاتی گھر کرائے پر لیا، جس کا ماہانہ کرایہ 2200 ڈالر ہے۔ وہ اپنے شریکِ حیات کے ساتھ رہائشی اخراجات بانٹتی ہیں جبکہ زیادہ تر بچت سفر اور سرمایہ کاری پر خرچ کرتی ہیں۔
ان کے ماہانہ اخراجات میں خوراک، ذاتی نگہداشت، فون بل اور امریکا میں سامان کے اسٹوریج کے اخراجات شامل ہیں۔
خلیج سے امریکی نوکری میکائیلا بحرین میں رہتے ہوئے ایک ٹیکنالوجی کمپنی میں سینئر ڈائریکٹر ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے طور پر کام کر رہی ہیں، جہاں ان کی سالانہ تنخواہ 1 لاکھ 40 ہزار ڈالر ہے۔ وہ امریکی مشرقی وقت کے مطابق کام کرتی ہیں، جس کے باعث ان کا کام کا دن شام سے شروع ہو کر آدھی رات کے بعد ختم ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایسی ملازمت حاصل کرنا تھا جو انہیں دنیا میں کہیں بھی رہنے کی آزادی دے۔ بحرین میں قیام کے باوجود وہ امریکی ٹیکس ادا کرتی ہیں اور کمپنی کی ہیلتھ انشورنس سے بھی مستفید ہو رہی ہیں۔
فارغ وقت میں وہ ورزش، شاپنگ اور روزمرہ زندگی کی جھلکیاں اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر شیئر کرتی ہیں، جہاں ان کے 64 ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔
میکائیلا کا کہنا ہے کہ وہ امریکی عوام کو دکھانا چاہتی ہیں کہ بحرین کتنا خوبصورت اور محفوظ ملک ہے۔ اگرچہ وہ نہیں جانتیں کہ یہاں ہمیشہ رہیں گی یا نہیں، تاہم وہ بحرین میں جائیداد خریدنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میری زندگی یہاں دس گنا بہتر ہو چکی ہے۔ میری خوشی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ بحرین نے پہلے دن ہی مجھے اپنا گھر محسوس کروایا۔
