لاہور سمیت صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں گندم کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے شہریوں اور تاجروں دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ محض دس روز کے قلیل عرصے میں فی من گندم کی قیمت میں 700 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد گندم کی اوسط قیمت 3,700 روپے سے بڑھ کر 4,400 روپے فی من تک جا پہنچی ہے۔
صوبے کے مختلف علاقوں میں قیمتوں کا تفاوت بھی نمایاں ہے۔ راولپنڈی میں گندم کی قیمت سب سے زیادہ بڑھتے ہوئے 4,800 روپے فی من تک پہنچ گئی، جو صوبے میں اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ لاہور میں گندم کا ریٹ 4,450 روپے فی من ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گوجرانوالہ اور گجرات میں قیمت 4,500 روپے فی من تک پہنچ چکی ہے۔ جنوبی پنجاب میں بھی صورتحال مختلف نہیں، ملتان میں 4,450 روپے جبکہ بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں گندم 4,400 روپے فی من میں فروخت ہو رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی یہی ریٹ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
گندم کی قیمتوں میں اضافے کے براہ راست اثرات آٹے کی دستیابی اور قیمتوں پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ لاہور کے متعدد علاقوں میں 10 اور 20 کلوگرام کے سرکاری نرخوں پر دستیاب سستے آٹے کے تھیلے نایاب ہو چکے ہیں، جس پر شہریوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ آٹے کے لیے دکانوں کے چکر لگانا معمول بن چکا ہے۔
تاہم، ڈی ڈی فوڈ (محکمہ خوراک) نے آٹے کی قلت کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مارکیٹ میں آٹے کی وافر مقدار موجود ہے۔ محکمہ خوراک کے مطابق 10 اور 20 کلو کے تھیلے دکانوں پر باآسانی دستیاب ہیں اور قلت کی خبریں بے بنیاد ہیں۔
دوسری جانب مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق 15 کلو آٹے کا تھیلا جو پہلے 1,500 روپے میں دستیاب تھا، اب 1,750 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جس سے عام صارف کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
مرکزی چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن نے گندم اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں کی بنیادی وجہ گندم کی قلت کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سپلائی بہتر نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملز کو مناسب مقدار میں گندم فراہم نہ ہونے کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کی یہ لہر عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے
