امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی جارحانہ تجارتی پالیسی کا عندیہ دیتے ہوئے کینیڈا کو سخت وارننگ جاری کر دی ہے کہ اگر اس نے چین کے ساتھ کسی قسم کا تجارتی معاہدہ کیا تو امریکا کینیڈا سے درآمد ہونے والی تمام اشیا پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دے گا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی بدستور برقرار ہے اور بڑی معیشتیں اپنی سپلائی چینز کو ازسرِنو ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔
گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کینیڈین قیادت کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کو چین کے لیے ایک ایسا “ڈراپ آف پورٹ” بنا سکتے ہیں جہاں سے چینی مصنوعات بالواسطہ طور پر امریکی منڈی میں داخل ہوں، تو وہ شدید غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا ایسی کسی بھی حکمتِ عملی کو برداشت نہیں کرے گا جس کے ذریعے چینی مصنوعات کو تیسرے ملک کے ذریعے امریکی مارکیٹ تک رسائی دی جائے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا تو امریکا فوری طور پر کینیڈا سے آنے والی تمام مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف نافذ کر دے گا۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا اقدام شمالی امریکا کی تجارتی شراکت داری، خصوصاً امریکا-کینیڈا تجارتی تعلقات، پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان دراصل چین کے خلاف امریکی اقتصادی دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کے تحت امریکا اپنے اتحادی ممالک کو بھی بیجنگ کے ساتھ قریبی تجارتی روابط بڑھانے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر واشنگٹن واقعی اس نوعیت کے سخت ٹیرف نافذ کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف کینیڈا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سپلائی چین، توانائی، زرعی تجارت اور مینوفیکچرنگ سیکٹر بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
کینیڈین حکومت کی جانب سے تاحال اس دھمکی پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی حلقوں میں اس بیان کو ایک بڑے تجارتی دباؤ کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو مستقبل قریب میں امریکا، کینیڈا اور چین کے درمیان تعلقات کو ایک نئے تناؤ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
