لاہور: ڈیزل قیمت میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں خود ساختہ اضافہ کردیا
لاہور:شہرمیں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے بسوں اور مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں خود ساختہ اضافہ شروع کر دیا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کی جانب سے مسافر بسوں کے کرایوں میں پچاس روپے سے ایک سو پچاس روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔ لاہور سے مختلف شہروں کے نئے کرایے کچھ یوں ہیں:
لاہور سے راولپنڈی کرایہ 1600 روپے سے بڑھا کر 1750 روپے کردیا گیا۔
لاہور سے رحیم یارخان: سابقہ کرایہ میں 150 روپے کا اضافہ، اب 1900 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔
لاہور سے گوجرانوالہ: کرایہ بھی بڑھا دیا گیا ہے، جس سے مسافروں پر اضافی مالی بوجھ پڑا ہے۔
مسافروں نے کہا ہے کہ پہلے ہی روز مرہ ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے، اب کرایوں میں اضافہ مزید بوجھ کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ڈیزل کی قیمت میں کمی کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور روزمرہ کے اخراجات کم ہوں۔
ایک شہری نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے افراد کے لیے یہ اضافی کرایہ بہت بڑا بوجھ ہے، اشیائے خوردونوش پہلے ہی مہنگی ہو چکی ہیں، اب ٹرانسپورٹ کرایہ بھی بڑھنے سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔
دوسری جانب حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 253 روپے 17 پیسے پر برقرار رکھی ہے۔ تاہم ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 268 روپے 38 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافہ براہِ راست ٹرانسپورٹ سیکٹر پر اثر ڈالتا ہے، جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کرایوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
شہری تنظیموں اور سواری کرنے والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لانے پر غور کرے تاکہ عوام پر بڑھتے ہوئے کرایوں کے منفی اثرات کم کیے جا سکیں۔
