ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اہم دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں وہ 4 فروری تک قیام کریں گے اور اس دوران اعلیٰ سرکاری حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اس دورے کا مقصد پاکستان میں جاری معاشی اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات اور بھارت کے ساتھ جاری آبی تنازع جیسے حساس موضوعات پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔
اجے بنگا کی ملاقاتوں میں وزیراعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے علاوہ توانائی اور اقتصادی امور کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہوں گے، جہاں حکومتی سطح پر معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کے صدر کو پاکستان کی معاشی حالت، اصلاحاتی اقدامات، سرمایہ کاری کے مواقع اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ فراہم کی جائے گی۔
ورلڈ بینک کے ساتھ پاکستان کا تعلق ایک طویل مدتی شراکت داری پر مبنی ہے، جس کے تحت 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر عملدرآمد جاری ہے۔ اس فریم ورک کے مطابق ورلڈ بینک پاکستان کو 2035 تک 20 ارب ڈالر کی معاونت فراہم کرے گا، جس کا مقصد ملک میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، توانائی اور معاشی استحکام کے شعبوں میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس شراکت داری کے تحت اب تک مختلف منصوبوں میں پیشرفت ہو چکی ہے اور مزید تعاون کے امکانات پر بھی بات کی جائے گی۔
اجے بنگا کے دورے کو پاکستان اور عالمی بینک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی اصلاحات اور عالمی مالیاتی تعاون کو اپنے فارن پالیسی اور داخلی ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ بنا رہا ہے۔ اس تناظر میں ورلڈ بینک کے صدر کے دورے سے متوقع تعاون اور معاشی استحکام کے حوالے سے امید کی جا رہی ہے کہ دونوں فریق ان ملاقاتوں سے اہم معاشی و سفارتی نتائج حاصل کریں گے
