پاکستان اور قازقستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے مختلف اہم شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) اور معاہدوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط بھی کیے، جسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹیجک اور معاشی تعاون کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ خصوصی تقریب میں کان کنی اور پیٹرولیم، میری ٹائم امور، کسٹمز تعاون، ریلوے رابطہ کاری، ٹرانزٹ ٹریڈ، پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری سروسز، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی جیسے متنوع شعبوں میں تعاون کے معاہدوں کی دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔ ان معاہدوں کا مقصد تجارت بڑھانا، علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں تعاون اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویزات بھی دونوں ممالک کے درمیان تبدیل کی گئیں، جسے سفارتی اور دفاعی تعاون کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں ایک باوقار استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ کیا۔ تقریب کے آغاز پر پاکستان اور قازقستان کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔
صدر توکایووف نے اس موقع پر اپنے وفد کے ارکان کا وزیراعظم شہباز شریف سے تعارف بھی کروایا۔ یاد رہے کہ قازقستان کے صدر دو روزہ سرکاری دورے پر وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچے ہیں، اور اس دورے کو وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشی و سفارتی روابط کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدے خطے میں تجارت، توانائی راہداریوں اور ڈیجیٹل تعاون کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔
