اسلام آباد: پیپلزپارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی نئی نیٹ بلنگ پالیسی کو پاکستان کے ماحولیاتی وعدوں اور قابلِ تجدید توانائی کے اہداف کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے سولر صارفین کے لیے ’’سزا‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شہری حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہوئے روف ٹاپ سولر سسٹمز میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں، انہیں اب مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے صاف توانائی کے فروغ کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
اپنے بیان میں شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مختلف فورمز پر قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے وعدے کرتا رہا ہے، تاہم نیپرا کے نئے قواعد اس سمت میں منفی اشارہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سولرائزیشن نہ صرف ماحول دوست اقدام ہے بلکہ مہنگی بجلی اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے، ایسے میں سولر صارفین کے لیے نرخوں میں بڑی کمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ نیپرا نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے نرخوں میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ نئے ریگولیشنز کے مطابق پہلے سے رجسٹرڈ سولر صارفین اپنی اضافی بجلی 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے سابقہ نرخ پر ہی فروخت کریں گے، تاہم نئے صارفین کے لیے فی یونٹ قیمت میں 17 روپے 19 پیسے کی کمی کر دی گئی ہے، جس کے بعد انہیں صرف 8 روپے 13 پیسے فی یونٹ ملیں گے۔ یہ شرح پہلے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا کم ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ اس فیصلے سے روف ٹاپ سولر کے نئے منصوبوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور عام شہری، جنہوں نے بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے باعث متبادل توانائی کا راستہ اختیار کیا، وہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کی تقسیم کے نظام میں اصلاحات کی جائیں، چاہے اس کی نجکاری کی جائے یا اسے صوبوں کے سپرد کیا جائے تاکہ شفافیت اور کارکردگی بہتر ہو سکے۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور ریگولیٹر کا مؤقف یہ ہو سکتا ہے کہ نیٹ بلنگ کے تحت بلند نرخوں پر بجلی کی خریداری سے تقسیم کار کمپنیوں پر مالی دباؤ بڑھ رہا تھا اور سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہو رہا تھا۔ تاہم ناقدین کے مطابق اچانک اور بڑی کمی سے پالیسی کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے فیصلے متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سولر پینلز کی درآمد اور تنصیب میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور شہریوں کی بڑی تعداد لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی سے بچنے کے لیے شمسی توانائی کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پالیسیوں میں استحکام اور اعتماد برقرار نہ رکھا گیا تو پاکستان کے قابلِ تجدید توانائی کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
