دنیا بھر کے شہروں میں سے پاکستان کوسب سے زیادہ ترسیلاتِ زر دبئی سے موصول ہوئیں، جہاں مقیم پاکستانیوں نے جنوری کے دوران ریکارڈ سطح پر رقوم وطن منتقل کیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں دبئی سے پاکستان کو 54 کروڑ ڈالرز سے زائد ترسیلات بھیجی گئیں۔ جبکہ مجموعی طور پر متحدہ عرب امارات سے پاکستان کو 69 کروڑ 40 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات سے آنے والی مجموعی ترسیلات میں دبئی کا حصہ تقریباً تین چوتھائی رہا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دبئی پاکستانی معیشت کے لیے ایک اہم مالی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
ابوظبی سے جنوری کے دوران 12 کروڑ 61 لاکھ ڈالرز پاکستان بھیجے گئے جبکہ شارجہ سے پاکستانیوں نے 98 لاکھ ڈالر وطن منتقل کیے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری میں پاکستان کو دنیا بھر سے مجموعی طور پر 3 ارب 46 کروڑ ڈالرز کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو ملکی زرمبادلہ ذخائر اور معیشت کے استحکام کے لیے نہایت اہم قرار دی جا رہی ہیں۔
ملکی سطح پر ترسیلاتِ زر بھیجنے والے ممالک میں سعودی عرب بدستور پہلے نمبر پر ہے جبکہ متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر رہا۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی ترسیلات معیشت کے لیے ریلیف کا باعث بن رہی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے دباؤ کا سامنا ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دبئی میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد، کاروباری سرگرمیاں اور مستحکم روزگار کے مواقع ترسیلات کے بڑھنے کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں
