وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اہم معاشی فیصلے کیے گئے اور ملک میں رمضان المبارک کے موقع پر مالی ریلیف کے اقدامات کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس میں ای سی سی نے وزیراعظم کے رمضان ریلیف پیکج کی منظوری دی اور ہدایت کی کہ فوری طور پر 19 ارب روپے مستحق خاندانوں کو جاری کیے جائیں تاکہ رمضان کے دوران انہیں فوری مالی مدد فراہم کی جا سکے۔
وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ رمضان ریلیف پیکج کے لیے مزید فنڈز ضرورت اور مالی گنجائش کے مطابق فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی آپریشنل اخراجات کے لیے ایک ارب روپے کے اجرا کی بھی منظوری دی گئی۔ اعلان کے مطابق مستحق خاندانوں کو امداد براہِ راست بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کی جائے گی تاکہ شفافیت اور بروقت رقم کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں ای سی سی نے فنانس ڈویژن کو ہدایت دی کہ رمضان ریلیف پیکج کے تمام اخراجات کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں، تاکہ مالی شفافیت اور احتساب کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ فنڈز درست وقت پر اور صحیح مستحقین تک پہنچیں۔
واضح رہے کہ وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ نے رمضان ریلیف پیکج کے لیے 25 ارب روپے جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ای سی سی نے موجودہ مالی گنجائش کے تحت ابتدائی طور پر 19 ارب روپے کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق یہ فیصلہ مستحق خاندانوں کو رمضان کے مقدس مہینے میں مالی ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں اقتصادی استحکام اور مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ ای سی سی کے فیصلے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حکومت سماجی تحفظ اور مالی شفافیت کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
