سمندر پار پاکستانیوں نے وطن عزیز کی معیشت میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے ترسیلات زر کا مجموعی حجم 11.923 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اعدادوشمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اور ستمبر 2020 سے اب تک کے دورانیے کو شامل کرتے ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق صرف جنوری کے مہینے میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے 216 ملین ڈالر کی ترسیلات زر ریکارڈ کی گئیں، جو ملک کی معیشت میں مستقل زرمبادلہ کے بہاؤ اور بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد کا واضح ثبوت ہیں۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری کا بھی نیا سنگِ میل قائم ہوا ہے، جس میں اب تک مجموعی طور پر 1.695 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ صرف جنوری میں سرمایہ کاری کا حجم 72 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ سمندر پار پاکستانی نہ صرف زرمبادلہ بھیج رہے ہیں بلکہ ملک کی مالی اور اقتصادی ترقی میں بھی شریک ہیں۔
سمندر پار پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
نیا پاکستان روایتی سرٹیفیکیٹس میں 518 ملین ڈالر
نیا پاکستان اسلامی سرٹیفیکیٹس میں 1.063 ارب ڈالر
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 114 ملین ڈالر
یہ اعدادوشمار اس بات کا مظہر ہیں کہ بیرون ملک پاکستانی نہ صرف وطن کی معیشت میں حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ طویل المدتی ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔
ماہرین معیشت کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس نے زرمبادلہ کے نظام کو زیادہ شفاف، آسان اور مؤثر بنایا ہے۔ اس اقدام سے بینکاری کے نظام میں اعتماد بڑھا ہے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے بڑھتے ہوئے حجم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سمندر پار پاکستانی مستقبل میں بھی وطن کی معیشت میں مثبت اور فعال کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
