ملکی معیشت کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں زرمبادلہ ذخائر کی تازہ صورتحال نے مالیاتی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 13 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے میں مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں 7 کروڑ 32 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ملک کے کل ذخائر 21 ارب 30 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے۔ اگرچہ ہفتہ وار بنیادوں پر معمولی کمی دیکھنے میں آئی، تاہم مجموعی ذخائر کا 21 ارب ڈالر سے زائد رہنا بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت اور مالیاتی استحکام کے لیے ایک حوصلہ افزا اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مرکزی بینک کے اپنے ذخائر میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر 1 کروڑ 91 لاکھ ڈالر اضافے کے بعد 16 ارب 19 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔ یہ اضافہ اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باوجود مرکزی بینک اپنے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ دوسری جانب کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر میں 9 کروڑ 23 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ان کے ذخائر کم ہو کر 5 ارب 10 کروڑ ڈالر رہ گئے۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ ذخائر میں ہفتہ وار بنیادوں پر اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے کیونکہ اس پر بیرونی قرضوں کی ادائیگی، سود کی ادائیگیاں، درآمدی بل اور ترسیلاتِ زر جیسے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ سطح پر ذخائر کا برقرار رہنا نہ صرف درآمدی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بھی اہم عنصر ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں بہتری کا رجحان برقرار رہا تو آئندہ ہفتوں میں ذخائر مزید مستحکم ہو سکتے ہیں، جو روپے کی قدر اور مالیاتی پالیسی کے استحکام میں معاون ثابت ہوگا۔ مجموعی طور پر تازہ اعداد و شمار ملکی معیشت کی موجودہ سمت کی ایک متوازن تصویر پیش کرتے ہیں جہاں دباؤ اور بہتری کے عناصر بیک وقت دکھائی دے رہے ہیں۔
