جنوب مشرقی ایشیا کی بڑی معیشت انڈونیشیا اور عالمی اقتصادی طاقت امریکا کے درمیان ایک اہم تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں نئی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق انڈونیشیا کی برآمدات پر پہلے سے لاگو 19 فیصد ٹیرف برقرار رکھا گیا ہے، تاہم کافی، چاکلیٹ، قدرتی ربڑ اور مختلف اقسام کے مصالحہ جات پر کسی قسم کا ٹیرف عائد نہیں کیا جائے گا، جس سے ان مصنوعات کے برآمد کنندگان کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
معاہدے کے تحت انڈونیشیا کو پام آئل سمیت تقریباً 1700 اشیا پر ٹیرف میں خصوصی رعایت یا مکمل چھوٹ مل سکتی ہے، جو ملکی برآمدات کے حجم میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق پام آئل انڈونیشیا کی اہم ترین برآمدی مصنوعات میں شامل ہے اور اس شعبے میں سہولت دونوں ممالک کے تجارتی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
دونوں ممالک نے معاہدے کے بعد تجارت اور سرمایہ کاری کی مشترکہ کونسل قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جو پالیسی سازی، مارکیٹ تک رسائی، ضابطہ جاتی تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے کام کرے گی۔ یہ کونسل مستقبل میں ممکنہ تجارتی تنازعات کے حل اور نئے شعبوں میں تعاون کے دروازے کھولنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
اعلامیے کے مطابق معاہدہ تمام قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل ہونے کے 90 دن بعد باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف دوطرفہ تجارت کو وسعت دے گی بلکہ خطے میں اقتصادی شراکت داری کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی تجارت مختلف چیلنجز سے دوچار ہے۔
