ایران نے جاری جوہری مذاکرات کے تناظر میں امریکا کو اپنی تیل اور گیس کی صنعت میں سرمایہ کاری کی باضابطہ پیشکش کر دی ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد ایک اہم معاشی و سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ مذاکرات میں زیرِ غور ایک جامع معاشی پیکج کے تحت امریکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے، تاہم ایران اپنے تیل، گیس اور معدنی وسائل پر مکمل کنٹرول اور خودمختاری برقرار رکھے گا۔
عہدیدار نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی صورت اپنے قدرتی وسائل کی ملکیت یا فیصلہ سازی کا اختیار کسی غیر ملکی فریق کو منتقل نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق امریکا ایران کا صرف ایک معاشی شراکت دار ہو سکتا ہے، اس سے زیادہ کوئی اسٹریٹجک یا انتظامی کردار قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ امریکی کمپنیاں ایرانی تیل اور گیس فیلڈز میں ٹھیکے دار (کنٹریکٹر) کی حیثیت سے کام کر سکیں گی، جب کہ پالیسی سازی، پیداوار کی نگرانی اور وسائل کی ملکیت ایرانی ریاست کے پاس ہی رہے گی۔
ایرانی عہدیدار نے مزید بتایا کہ تہران پُرامن جوہری افزودگی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، تاہم عالمی اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے علاقائی سطح پر جوہری افزودگی کنسورشیم کے قیام پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس ممکنہ کنسورشیم کا مقصد شفافیت میں اضافہ، تکنیکی تعاون اور بین الاقوامی خدشات کو کم کرنا ہوگا، تاکہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے جاری رہ سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی یہ پیشکش ایک متوازن حکمت عملی کی عکاس ہے جس میں ایک جانب اقتصادی پابندیوں کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور دوسری جانب قومی خودمختاری اور اسٹریٹجک مفادات کو محفوظ رکھا جا رہا ہے۔ ایران کی معیشت پر عائد پابندیوں کے باعث توانائی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو اہم سمجھا جا رہا ہے، جبکہ امریکا کے لیے بھی توانائی کے عالمی منڈی میں استحکام ایک اہم مسئلہ ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے۔ حالیہ معاشی تجاویز اور سفارتی بیانات کو ممکنہ پیش رفت کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور عالمی توانائی منڈی میں استحکام کے امکانات بھی روشن ہو سکتے ہیں۔
