اسلام آباد: یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے بعد مہنگائی کی نئی لہر عوام کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ پندرہ روز کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 58 پیسے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 4 روپے 73 پیسے فی لیٹر تک مہنگا ہوسکتا ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی مارکیٹ میں فوری اثرات مرتب کرتا ہے کیونکہ مال برداری کا زیادہ تر انحصار ڈیزل پر ہوتا ہے۔
اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے 88 پیسے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے، جو بالخصوص دیہی علاقوں اور کم آمدن طبقے کیلئے مشکلات بڑھا سکتا ہے۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں بھی 5 روپے فی لیٹر تک اضافہ متوقع بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اوگرا کی ورکنگ مکمل ہونے کے بعد حتمی سمری وزارت خزانہ کو ارسال کی جائے گی، جس کے بعد وزیراعظم کی منظوری سے نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ اگر یہ اضافہ منظور ہو جاتا ہے تو مارچ کا آغاز ہی عوام کیلئے مہنگائی کے نئے بوجھ کے ساتھ ہوگا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں تبدیلی مقامی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ممکنہ اضافے کو کم سے کم رکھا جائے تاکہ پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے شہریوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
