مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں اور ہفتے کے پہلے کاروباری روز Pakistan Stock Exchange میں شدید مندی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں میں بے چینی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث مارکیٹ آغاز ہی سے دباؤ کا شکار رہی۔
کاروباری ہفتے کے آغاز پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی اور مارکیٹ کھلتے ہی 15 ہزار 344 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے بعد انڈیکس 152,717 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
بعد ازاں فروخت کا دباؤ مزید بڑھا اور ایک موقع پر 100 انڈیکس 14 ہزار 882 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 153,179 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا رہا۔ یہ گراوٹ تقریباً 8.97 فیصد بنتی ہے، جس پر مارکیٹ میں سرکٹ بریکر کا اطلاق کرنا پڑا۔
تیز مندی کے باعث سرکٹ بریکر لگایا گیا اور کاروبار 45 منٹ کے لیے روک دیا گیا تاکہ سرمایہ کاروں کو صورتحال کا جائزہ لینے کا موقع مل سکے۔ وقفے کے بعد کاروبار دوبارہ بحال کیا گیا، تاہم مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا۔
اسی طرح کے ایس سی 30 انڈیکس بھی 9.42 فیصد کی نمایاں کمی کے بعد 45 منٹ کے لیے معطل کر دیا گیا، جو مارکیٹ میں شدید دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال، تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے اور عالمی سرمایہ کاروں کے خدشات نے مقامی مارکیٹ پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے اخراج اور مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص فروخت کرنے کے رجحان نے مندی کو مزید گہرا کیا۔
سرمایہ کار اب عالمی حالات، تیل کی قیمتوں اور خطے کی سیاسی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو مارکیٹ میں مزید دباؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے نہایت اہم ہوں گے اور سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
