اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور خطے میں جوابی کارروائیوں کے بعد پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سپلائی کے انتظام کے لیے 18 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے اور پاکستان کی معیشت پر اس کے اثرات کا پیشگی جائزہ لینے کی کوشش کے طور پر لیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کے کنوینر وزیر خزانہ مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ ارکان میں وزیر پیٹرولیم، وزیر توانائی (پاور ڈویژن)، وزیر مملکت برائے خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک، سیکریٹری پیٹرولیم، سیکریٹری پاور، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر، سپیشل سیکریٹری ٹو پرائم منسٹر، ہیڈ آف ریسرچ آئی ایم ایس ڈاکٹر رضا جعفری، چیئرمین اوگرا، منیجنگ ڈائریکٹر پارکو، پی ایس او اور پی ایل ایل کے نمائندے، منیجنگ ڈائریکٹر سوئی ناردرن اور ایس ایس جی سی ایل، اور انٹیلیجنس اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔
کمیٹی عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر روزانہ نظر رکھے گی، سپلائی چین کی پیش بینی کرے گی اور ضرورت پڑنے پر فوری منصوبہ مرتب کر کے مارکیٹ کو مستحکم کرے گی۔ حکومت نے کمیٹی کو اجازت دی ہے کہ وہ اضافی ارکان بھی شامل کر سکے اور روزانہ اجلاس منعقد کر کے رپورٹ براہِ راست وزیراعظم کو پیش کرے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی OGRA کے مطابق پاکستان میں پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں، جو تقریباً 28دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ سرکاری تقاضے کے تحت لازمی 20 دن کے اسٹاک سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سپلائی چین معمول کے مطابق فعال ہے اور فوری قلت کا خدشہ نہیں، جبکہ تیل کی درآمد، ریفائنری پیداوار اور ڈپوؤں میں موجود ذخائر کی روزانہ بنیاد پر نگرانی جاری ہے۔ حکومت نے کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ کم از کم مقررہ ذخائر برقرار رکھے جائیں تاکہ غیر متوقع عالمی جھٹکوں یا علاقائی تنازعات کے دوران اندرونی منڈی متاثر نہ ہو۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان میں مہنگائی، درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر پر براہِ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے روزانہ نگرانی اور اعلیٰ سطحی رابطہ کاری کو پیشگی حفاظتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی اور قیمتوں میں استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
علاوہ ازیں، حکومت نے دوست ممالک سے اضافی تیل کی درآمد کے لیے اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں، جبکہ شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ موجودہ صورتحال میں پیٹرولیم مصنوعات کا کم سے کم استعمال کریں تاکہ ملکی ذخائر پر بوجھ کم ہو اور کسی ہنگامی صورتحال میں مارکیٹ مستحکم رہے۔
